حقیقةُ الوحی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 484 of 830

حقیقةُ الوحی — Page 484

روحانی خزائن جلد ۲۲ ۴۸۴ تتمه حقيق جھوٹھ کا بازار تھوڑے روز ہے بعد اس کے حسرت دلسوز اب بھی مرزائیو ذرا حق سے ڈرو زندگی میں جلد تر توبہ کرو دین محمد کی کرو تم پیروی ہاتھ آوے دو جہاں میں خسروی پھر نہ مرزا مہدی ہوگا نہ رسول شریعت سے فضول جب خدا کا قہر ہو تم پر نزول ۵۰ بھول جائیں گے یہ سب قالا وقول دلائل صرف اس کی عقل کا طومار چھوڑ دو منہ کھلے وہ (لعنة الله على الكاذبين) عیش و عشرت کے لئے یہ کار ہے کہا جو طریقہ اُس نے ہے جاری کیا سچ کس پیمبر یا ولی نے عورتیں بیگانہ کو ہمراہ لیا باغ میں لے جا کے اُس نے یہ کہا اپنے تم سا ہاتھ میں لے ہاتھ کرتے چہچہا اور کرتے کام ہیں ناروا پھر یہ لوگوں نے اسے مہدی کہا یا الہی جلد تر انصاف کر جھوٹ کا دنیا سے مطلع صاف کر یہ شعر ہیں جن میں سے بہت گندے شعر میں نے نکال دیئے ہیں کیونکہ وہ سخت گندے اور بے حیائی کے مضمون تھے مگر جیسا کہ ان شعروں کے مصنف نے جناب الہی میں دعا کی تھی کہ وہ انصاف کرے اور جھوٹ کا مطلع صاف کرے ایسا ہی خدا نے جلد تر انصاف کر دیا اور ان شعروں کے لکھنے کے چند روز بعد یعنی بعد تصنیف ان شعروں کے وہ شخص یعنی عبد القادر طاعون سے ہلاک ہو گیا۔ مجھے اُس کے ایک شاگرد کے ذریعہ سے یہ دستخطی تحریر اس کی مل گئی اور نہ وہ صرف اکیلا طاعون سے ہلاک ہوا بلکہ اور بھی اس کے بعض عزیز طاعون سے مر گئے ایک داماد بھی مر گیا۔ پس اس طرح پر اس کے شعر کے مطابق جھوٹ کا مطلع صاف ہو گیا۔ افسوس کہ یہ لوگ آپ جھوٹ بولتے ہیں اور آپ گستاخ ہو کر تہمتیں لگاتے اور شریعت نبویہ کی رو سے حد قذف کے لائق ٹھیرتے ہیں پھر بھی کچھ پرواہ نہیں کرتے ۔ یہ ہیں علماء فضلاء یعنی اس زمانہ کے ان لوگوں کے دلوں میں کچھ ایسی شوخی اور لا پروائی ہے کہ جب ایک شخص خدا تعالیٰ