حقیقةُ الوحی — Page 25
روحانی خزائن جلد ۲۲ ۲۵ حقيقة الوح آگ کے رنگ میں آجاتا ہے اور آگ کی صفات اُس سے ظاہر ہونی شروع ہو جاتی ہیں ایسا ہی اس درجہ کا آدمی صفات الہیہ سے ظلی طور پر متصف ہو جاتا ہے اور اس قدر طبعاً مرضات الہیہ میں فنا ہو جاتا ہے کہ خدا میں ہو کر بولتا ہے اور خدا میں ہو کر دیکھتا ہے اور خدا (۲۳) میں ہو کر سنتا ہے اور خدا میں ہو کر چلتا ہے گویا اُس کے جبہ میں خدا ہی ہوتا ہے اور انسانیت اُس کی تجلیات الہیہ کے نیچے مغلوب ہو جاتی ہے چونکہ یہ مضمون نازک ہے اور عام نہم نہیں اس لئے ہم اس کو اسی جگہ چھوڑتے ہیں ۔ اور ایک دوسرے پیرا یہ میں ہم اس مرتبہ ثالثہ کی جواعلیٰ اور اکمل مرتبہ ہے اس طرح پر تصویر کھینچتے ہیں کہ وہ وحی کامل جو اقسام ثلاثہ میں سے تیسری قسم کی وحی ہے جو کامل فرد پر نازل ہوتی ہے اُس کی یہ مثال ہے کہ جیسے سورج کی دھوپ اور شعاع ایک مصفا آئینہ پر پڑتی ہے جو عین اس کے مقابل پر پڑا ہے۔ یہ تو ظاہر ہے کہ اگر چہ سورج کی دھوپ ایک ہی چیز ہے لیکن بوجہ اختلاف مظاہر کے اس کے ظہور کی کیفیت میں فرق پیدا ہو جاتا ہے۔ پس جب سورج کی شعاع زمین کے کسی ایسے کثیف حصہ میں پڑتی ہے جس کی سطح پر ایک شفاف اور مصفا پانی موجود نہیں بلکہ سیاہ اور تاریک خاک ہے اور سطح بھی مستوی نہیں تب شعاع نہایت کمزور ہوتی ہے خاص کر اُس حالت میں جبکہ سورج اور زمین میں کوئی بادل بھی حائل ہو لیکن جب وہی شعاع جس کے آگے کوئی بادل حائل نہیں ایک شفاف پانی پر پڑتی ہے جو ایک مصفا آئینہ کی طرح چمکتا ہے تب وہی شعاع ایک سے دو چند ہو کر ظاہر ہوتی ہے جسے آنکھ بھی برداشت نہیں کر سکتی۔ پس اسی طرح جب نفس تزکیہ یافتہ پر جو تمام کدورتوں سے پاک ہو جاتا ہے وحی نازل ہوتی ہے تو اُس کا نور فوق العادت نمایاں ہوتا ہے۔ اور اُس نفس پر صفات الہیہ کا انعکاس پورے طور پر ہو جاتا ہے اور پورے طور پر چہرہ حضرت احدیت ظاہر ہوتا ہے۔ اس تحقیق سے ظاہر ہے کہ جیسے آفتاب جب نکلتا ہے تو ہر ایک پاک نا پاک جگہ پر اُس کی