حقیقةُ الوحی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 477 of 830

حقیقةُ الوحی — Page 477

روحانی خزائن جلد ۲۲ تتمه حقيقة الوحى اور اس پیشگوئی کا ظہور بارش اور سردی کے متعلق صرف اس پہلو سے ظہور میں نہیں آیا کہ غیر معمولی بارش اور غیر معمولی سردی بہار کے موسم میں پڑ گئی بلکہ اس دوسرے پہلو سے بھی پیشگوئی کا ظہور ہوا کہ اس بہار میں عام طور پر تمام ملک کے حصوں میں بارش ہو گئی اور جن اضلاع میں بارش سے ہمیشہ ترستے تھے وہاں بھی ہوگئی پس ہر ایک شخص جو عقل اور حیا اور انصاف اور خدا ترسی سے کام لے گا وہ بلا تامل اس بات کا اقرار کرے گا کہ یہ امر خارق عادت اور غیر معمولی تھا جس کی خدا تعالیٰ نے پہلے سے خبر دی تھی اور اس ملک میں ایسے حالات کے پیش از وقت ظاہر کرنے کے لئے گورنمنٹ انگریزی میں ایک عملہ مقرر تھا اور منجم بھی تھے مگر کسی نے یہ خبر نہیں دی کہ موسم بہار میں یہ غیر معمولی بارشیں ہوں گی اور برف پڑے گی صرف اُس خدا (۲۳) نے ہی خبر دی جس نے ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو سب نبیوں کے آخر میں بھیجا تا تمام قوموں کو آپ کے جھنڈے کے نیچے اکٹھا کرے۔ یہ حصہ تو کثرت بارشوں کے متعلق ہے اب ہم اُس حصہ کو بیان کرتے ہیں جو برف گرنے کے متعلق کسی قدر پہلے بھی ہم لکھ چکے ہیں تا معلوم ہو کہ یہ پیشگوئی اس ملک سے خاص نہیں رہی بلکہ دوسرے ممالک میں بھی اس نے خارق عادت رنگ دکھلایا ہے اور وہ یہ ہے: اخبار وکیل امرتسر مورخہ 2 فروری ۱۹۰۷ء صفحہ ۲ میں جو ۲۳ رذی الحجہ ۱۳۲۴ھ کے مطابق ہے یوروپ کی موسمی حالت کے متعلق مندرجہ ذیل حال لکھا ہے: بعض ممالک یورپ میں امسال سردی کی ایسی شدت بیان کی جاتی ہے کہ سنین ماضیہ میں اس کی کوئی نظیر شاید ہی ملے۔ چنانچہ نجیم میں مقیاس الحرارت صفر سے بھی زیادہ نیچے چلا گیا ہے۔ برلن میں نقطہ انجماد سے تیرہ درجے نیچے بیان کیا جاتا ہے آسٹریا ہنگری میں بین درجہ نیچے ۔ اس شدید سردی سے کئی آدمی بھی مر چکے ہیں۔ براعظم یورپ کی بعض ریلوے لائنوں کی آمد و رفت میں خلل پڑ گیا ہے کیونکہ انجنوں کے نل پانی کے جم جانے سے پھٹ گئے ۔ ڈینیوب اور اوڑیسہ کی بندرگا ہیں یخ بستہ ہو رہی ہیں۔ روس اور برطانیہ میں مقیاس الحرارت