حقیقةُ الوحی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 469 of 830

حقیقةُ الوحی — Page 469

روحانی خزائن جلد ۲۲ ۴۶۹ تتمه حقيقة الوحي ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے معجزات اب تک ظہور میں آرہے ہیں اور قیامت تک ظاہر ہوتے رہیں گے جو کچھ میری تائید میں ظاہر ہوتا ہے دراصل وہ سب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے معجزات ہیں۔ مگر کہاں ہیں وہ پادری یا یہودی یا اور قومیں جوان نشانوں کے مقابل پر نشان دکھلا سکتے ہیں۔ ہر گز نہیں! ہر گز نہیں ! ہر گز نہیں !!! اگر چہ کوشش کرتے کرتے مر بھی جائیں تب بھی ایک نشان بھی دکھلا نہیں سکتے کیونکہ ان کے مصنوعی خدا ہیں بچے خدا کے وہ پیرو نہیں ہیں ۔ اسلام (۳۲ ) معجزات کا سمندر ہے اس نے کبھی جبر نہیں کیا اور نہ اس کو جبر کی کچھ ضرورت ہے۔ پہلی لڑائیوں کی صرف بنیاد یہ تھی کہ قریش نے مکہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر بڑے بڑے ظلم کئے اور بہت سے صحابہ قتل کر دیے تھے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو مکہ سے نکال دیا تھا پس وہ اپنی نہایت درجہ کی شرارت اور ظلم کی وجہ سے اس لائق ہو گئے تھے کہ اُن کو ان جرائم کی سزادی جائے ۔ پس جن لوگوں نے تلوار اُٹھائی تھی وہ تلوار سے ہی ہلاک کئے گئے ۔ ہاں نہایت درجہ کی رحمت سے ایک رعایت اُن کو دی گئی کہ اگر وہ اسلام لاویں تو اُن کے جرائم بخش دیئے جاویں گے اور یہ جبر نہیں ہے بلکہ ان کی مرضی پر چھوڑا گیا تھا۔ اور کون ثابت کر سکتا ہے کہ اُن کے ان جرائم اور شرارتوں سے پہلے اُن پر تلوار اٹھائی گئی تھی ۔ وہ نادان پادری اور آریہ جن کو خواہ مخواہ اسلام سے ایک کینہ ہے محض افترا کے طور پر ایسی باتیں منہ پر لاتے ہیں اور نا دان مولوی محض اپنی جہالت سے اُن کو مدد دیتے ہیں۔ یہ ہر گز صحیح نہیں ہے کہ اسلام تلوار کے زور سے پھیلا ہے بلکہ کامل تعلیم کے زور سے پھیلا ہے اور نشانوں کے زور سے پھیلا ہے۔ اسلام کے مقابل پر عیسائی مذہب کو اگر رکھا جائے تو صاف نظر آئے گا کہ اسلام ایک ایسا خدا پیش کرتا ہے جو اپنی تمام قدرتوں اور عظمتوں اور تقدسوں میں کامل ہے اور بے مثل و یا تلوار ہرگز نہیں اُٹھائی گئی بلکہ تیرہ برس تک برابر کافروں کے انواع و اقسام کے ظلم اور خونریزیوں پر صبر کیا گیا اور بعد اس کے جب وہ لوگ حد سے بڑھ گئے تب ان کے مقابلہ کا اذن دیا گیا پس یہ جنگ صرف دفاعی جنگ اور جرائم پیشہ کو محض سزا دینے کی غرض سے تھی تا زمین خونی مفسدوں سے پاک کی جائے۔ منہ