حقیقةُ الوحی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 465 of 830

حقیقةُ الوحی — Page 465

روحانی خزائن جلد ۲۲ ۴۶۵ تتمه حقيقة الوحى پس یہ کس قدر بے حیائی کا طریق ہے کہ باوجود علم اس بات کے کہ وعید کی پیشگوئیاں مل سکتی ہیں اور ہمیش ملتی رہتی ہیں پھر بھی شور مچانا کہ پیشگوئی پوری نہیں ہوئی معلوم ہوتا ہے کہ ان لوگوں کو خدا تعالیٰ پر ایمان ہی نہیں۔ آخر شوخی اور انکار کی ایک حد ہے۔ حد سے بڑھنا خدا تعالیٰ کے عذاب کی نشانی ہے۔ مجھے بار بار تعجب آتا ہے کہ طاعون سر پر ہے اور بڑے بڑے زلزلوں کا خدا نے وعدہ دیا ہے اور آثار قیامت ظاہر ہیں۔ پھر معلوم نہیں کہ یہ لوگ کیوں ڈرتے نہیں ۔ اسی وجہ سے (۳۳) مجھے آج یہ لکھنا پڑا کہ اگر مولوی ثناء اللہ امرتسری اپنی شوخیوں سے باز نہیں آتا تو اس کا یہی علاج ہے کہ مباہلہ کی درخواست کرے۔ یہ بھی اُس کی بدقسمتی ہے کہ چند متضاد حدیثوں پر ناز کر کے خدا تعالیٰ کے تازہ نشانوں سے انکار کرتا ہے اور وعید کی پیشگوئیوں کو عوام کو دھوکہ دینے کے لئے حاشیہ : میں خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر یہ بیان کرتا ہوں کہ اس بارے میں خود اپنی ذات کی نسبت اور اپنے دوستوں کی نسبت صاحب تجربہ ہوں کہ صبح ایک بلا نازل ہونے کی پیشگوئی خدا نے فرمائی اور شام کو وہ کثرت دعا کی وجہ سے ٹل گئی اور یہ مجھے بشارت دی گئی کہ ہم نے اس بلا کو ٹال دیا۔ پس اگر میری تکذیب کے لئے ہی دلائل دشمنوں کے ہاتھ میں ہیں تو صد ہا نظیر میں اس کی خود میری سوانح اور میرے عزیزوں کے سوانح میں موجود ہیں تعجب کہ ہمارے مخالف ان تمام قصوں کو بھی بھول جاتے ہیں جو خود تفسیر وں اور حدیثوں میں پڑھتے ہیں چنانچہ ان کی تفسیروں میں لکھا ہے کہ ایک بادشاہ بنی اسرائیل میں تھا اور وقت کے پیغمبر نے اُس کی نسبت یہ پیشگوئی کی تھی کہ وہ پندرہ دن کے اندر مر جائے گا۔ وہ اس پیشگوئی کوسُن کر بہت رویا اور اس قدر رویا کہ اُس پیغمبر پر دوبارہ وحی نازل ہوئی کہ ہم نے اُس کے پندرہ دن پندرہ سال سے بدل دیئے۔ یہ پیشگوئی اب تک بائبل میں بھی موجود ہے جس کا جی چاہے دیکھ لے۔ منہ آج ۲۸ فروری ۱۹۰۷ء کو بوقت صبح روز پنجشنبہ یہ الہام ہو اسخت زلزلہ آیا اور آج بارش بھی ہوگی۔ خوش آمدی نیک آمدی منه یادر ہے کہ یہ دعویٰ کہ احادیث سے حضرت عیسی علیہ السلام کا آسمان سے نازل ہونا ثابت ہے بالکل جھوٹ ہے کیونکہ حدیث صحیح سے ثابت ہے کہ مسیح آنے والا اس اُمت میں سے ہوگا۔ پس اس تکلف کی کیا ضرورت ہے کہ حضرت عیسی کو آسمان سے نازل کر کے اُمت میں داخل کیا جائے اور نبوت سے معطل کیا جائے ۔ کیا خدا تعالیٰ الیاس نبی کی طرح اسی اُمت میں سے عیسی پیدا نہیں کر سکتا جبکہ اس کے لئے ایک نظیر موجود ہے تو اس قدر تکلفات کی کیا حاجت ہے۔