حقیقةُ الوحی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 22 of 830

حقیقةُ الوحی — Page 22

روحانی خزائن جلد ۲۲ ۲۲ حقيقة الوح کامل الایمان اور کامل المحبت لوگوں کی نسبت اس رسالہ میں بیان کیا گیا ہے ان میں سے اکثر اُمور میں دوسرے لوگ بھی شریک ہو جاتے ہیں جیسا کہ دوسروں کو بھی خوا ہیں آتی ہیں ۔ کشف بھی ہوتے ہیں۔ الہام بھی پاتے ہیں تو ما بہ الامتیاز کیا ہوا۔ ان وساوس کا جواب اگر چہ ہم بار ہادے چکے ہیں مگر پھر ہم کہتے ہیں کہ مقبولوں اور غیر مقبولوں میں فرق تو بہت ہے جو کسی قدر اس رسالہ میں بھی تحریر ہو چکا ہے لیکن آسمانی (۲۰) نشانوں کے رو سے ایک عظیم الشان یہ فرق ہے کہ خدا کے مقبول بندے جو انوار سبحانی میں غرق کئے جاتے اور آتش محبت سے اُن کی ساری نفسانیت جلائی جاتی ہے وہ اپنی ہرشان میں کیا باعتبار کمیت اور کیا باعتبار کیفیت غیروں پر غالب ہوتے ہیں اور غیر معمولی طور پر خدا کی تائید اور نصرت کے نشان اس کثرت سے اُن کے لئے ظاہر ہوتے ہیں کہ دنیا میں کسی کو مجال نہیں ہوتی کہ اُن کی نظیر پیش کر سکے کیونکہ جیسا کہ ہم بیان کر چکے ہیں خدا جو مخفی ہے اُس کا چہرہ دکھلانے کے لئے وہ کامل مظہر ہوتے ہیں وہ دنیا کے آگے پوشیدہ خدا کو دکھلاتے ہیں اور خدا انہیں دکھلاتا ہے۔ اور ہم بیان کر چکے ہیں کہ آسمانی نشانوں سے حصہ لینے والے تین قسم کے آدمی ہوتے ہیں۔ اوّل وہ جو کوئی ہنر اپنے اندر نہیں رکھتے اور کوئی تعلق خدا تعالیٰ سے اُن کا نہیں ہوتا صرف دماغی مناسبت کی وجہ سے اُن کو بعض سچی خوا میں آجاتی ہیں اور سچے کشف ظاہر ہو جاتے ہیں جن میں کوئی مقبولیت اور محبوبیت کے آثار ظاہر نہیں ہوتے اور اُن سے کوئی فائدہ اُن کی ذات کو نہیں ہوتا اور ہزاروں شریر اور بدچلن اور فاسق وفاجر ایسی بد بودار خوابوں اور الہاموں میں اُن کے شریک ہوتے ہیں اور اکثر دیکھا جاتا ہے کہ باوجود ان خوابوں اور کشفوں کے اُن کا چال چلن قابل تعریف نہیں ہوتا کم سے کم یہ کہ اُن کی ایمانی حالت نہایت کمزور ہوتی ہے اس قدر کہ ایک سچی گواہی بھی نہیں دے سکتے اور جس قدر دنیا سے ڈرتے ہیں خدا سے نہیں ڈرتے اور شریر آدمیوں سے قطع تعلق نہیں کر سکتے اور کوئی ایسی بچی گواہی نہیں دے سکتے جس سے بڑے آدمی کے ناراض ہو جانے کا اندیشہ ہو اور دینی امور میں نہایت