حقیقةُ الوحی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 443 of 830

حقیقةُ الوحی — Page 443

روحانی خزائن جلد ۲۲ ۴۴۳ تتمه حقيقة لڑکا نہ ہوا اور نہ اُس کے لڑکے کی اولاد ہوئی۔ کیا اس واقعہ سے پیشگوئی کے اثر کی کچھ بھی یو (۱۲) نہیں آتی کہ پیشگوئی کے بعد تخمیناً بار ہا سال تک سعد اللہ زندہ رہا اور جو رو رکھتا تھا مگر پھر بھی اولاد کا ہونا ایسا رک گیا جیسا کہ ایک سیلاب کے آگے بندھ لگایا جاتا ہے اور لڑکا جو پیشگوئی سے پہلے بھمر پندرہ سال موجود تھا وہ بھی تمہیں سال تک پہنچ گیا اور شادی تک نوبت نہ آئی اور سعد اللہ ایک جوان مضبوط تھا اور اس لائق تھا کہ پیشگوئی کے بعد کئی لڑکے اس کے گھر میں پیدا ہو جاتے لیکن پیشگوئی کے بعد موت کے دن تک اس کے گھر میں کوئی زندہ رہنے والا لڑ کا پیدا نہیں ہوا اور نہ اس کے لڑکے کے گھر میں کچھ اولا د ہوئی بلکہ اب تک وہ شادی سے محروم ہے اور سنا گیا ہے کہ اس کی عمر تین برس یا اس سے زائد ہے۔ پس پیشگوئی نے اپنی سچائی کو ظاہر کر دیا کہ پیشگوئی کے بعد خدا تعالیٰ نے سعد اللہ کے گھر میں نسل کا پیدا کرنا روک دیا۔ ہر ایک شخص جو کچھ حیا اور شرم کا مادہ اپنے اندر رکھتا ہے وہ سمجھ سکتا ہے کہ پیشگوئی کے ساتھ ہی آئندہ بارہ برس تک سلسلہ اولاد کا قطع ہو جانا اور اُسی حالت میں سعد اللہ کا مر جانا یہ ایسا امر نہیں ہے کہ نظر انداز کیا جائے جس حالت میں بدقسمت سعد اللہ کے ان کلمات کے بعد جو اُس نے میری نسبت کہے یعنی یہ کہ گویا میں مع اپنی تمام اولاد کے ہلاک ہو جاؤں گا اور کچھ بھی میرا باقی نہیں رہے گا اور جماعت درہم برہم ہو جائے گی۔ خدا نے اس کی نسبت یہ الہام دیا کہ إِنَّ شَانِئَكَ هُوَ الْاَبْتَرُ یعنی تو ابتر نہیں ہوگا بلکہ تیرا بد گو ہی ابتر رہے گا۔ تو اب دیکھنا چاہیے کہ اس پیشگوئی کا نتیجہ کیا ہوا۔ صاف ظاہر ہے کہ نتیجہ یہ ہوا کہ بدقسمت سعد اللہ ابتر کے لفظ کے ہر ایک معنی کی رو سے جو لغت میں کئے گئے ہیں خدا تعالیٰ کے قہر اور غضب کا مورد ہو گیا اپنے ارادہ میں خائب و خاسر رہا جیسا کہ ابتر کے لفظ کے ایک یہ بھی معنی ہیں اور ابھی ہم یہ معنی بھی لکھ چکے ہیں۔ دوسرے یہ معنی بھی اُس پر صادق آئے کہ آخر کار پادریوں کا نوکر ہوکر جو دین اسلام کی تو ہین میں ہر وقت لگے رہتے ہیں ذلت کی زندگی اختیار کی اور وہ خیر اور برکت جو ایک غیرت مند اسلام کے حصہ میں آتی ہے اس سے بے نصیب ہو گیا۔ یہ اس کا نتیجہ تھا کہ محض شرارت اور دنیا داری سے حق کی مخالفت پر کمر بستہ تھا۔ لہذا اس پر یہ رجعت پڑی کہ میری اطاعت کا جوا