حقیقةُ الوحی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 442 of 830

حقیقةُ الوحی — Page 442

روحانی خزائن جلد ۲۲ ۴۴۲ تتمه حقيقة الوحى 1 اولا د مر جاتی تو ملک میں ایک کہرام مچ جاتا ۔ کیونکہ معجزہ کے طور پر ہزار ہا بچوں کا مرجانا اور پھر لا ولد ہونے کی حالت میں ان کے باپوں کا مرنا یہ ایسا معجزہ نہیں تھا جو مخفی رہ سکتا اور ضرور تھا کہ احادیث اور تاریخوں کی کتابوں میں اس کا ذکر ہوتا۔ پس اس سے یقینی طور پر ثابت ہوتا ہے کہ اکثر اُن کے اولاد چھوڑ کر مر گئے تھے اور بعد میں پیشگوئی کے مطابق آہستہ آہستہ اُن کی نسل منقطع ہو گئی پس قرآن شریف کی یہ پیشگوئی جو قریش کے کافروں کے حق میں تھی یعنی إِنَّ شَانِئَكَ هُوَ الْاَبْتَرُ یہ بعینہ اسی رنگ کی پیشگوئی ہے جو میں نے خدا تعالیٰ سے الہام پا کر سعد اللہ لودھیانوی کے حق میں کی تھی۔ پس اسی طرح اُس کا ظہور ہوگا جس کے کان سُننے کے ہوں گئے ۔ بقیہ ترجمہ لسان العرب کا یہ ہے کہ ابتر مفلس کو بھی کہتے ہیں اور اس شخص کو بھی جو خسارہ میں ہو۔ اور اُن چیزوں کو ابتر کہتے ہیں جو مشکیزہ اور بوکا وغیرہ میں سے قبضہ نہ رکھتے ہوں۔ اس تمام تحقیق سے ظاہر ہے کہ اول تو ابتر کا لفظ بے فرزند ہونے کے لئے مخصوص نہیں ہے بلکہ ہر ایک بدنصیب اور نامراد جو نا کام اور زیاں کا ر رہے اس کو بھی ابتر کہتے ہیں جیسا کہ سعد اللہ اپنے کاموں میں نامراد گیا اور میرے مقابل پر جو کچھ اس کی آرزو تھی سب میں اس کو نا مرادی نصیب ہوئی جیسا کہ ہم آگے چل کر بیان کریں گے۔ علاوہ اس کے تحقیق متذکرہ بالا کی رو سے ثابت ہو گیا کہ ابتر ہونے کے لئے یہ ضروری نہیں کہ انسان ایسی حالت میں مرے جبکہ کوئی اُس کی اولاد نہ ہو بلکہ اگر بعد میں بھی اس کی اولاد کا سلسلہ منقطع ہو جائے اور پوتے سے آگے نہ چلے تب بھی وہ ابتر کہلاتا ہے جیسا کہ ہم ذکر کر چکے ہیں کہ قریش کے صدبا خبیث طبع لوگوں نے آنحضرت صلعم کا نام ابتر رکھا تھا اور وہ لوگ صاحب اولاد تھے اور اسلامی تاریخ میں ثابت نہیں کیا گیا کہ ان کی حیات میں ہی اُن کے بیٹے اور پوتے ہلاک ہو گئے تھے بلکہ بعد میں آہستہ آہستہ ان کا قطع نسل ہو گیا تھا سو وہ پیشگوئی جو خدا تعالیٰ کی طرف سے میرے پر ظاہر ہوئی اس کا بھی یہی منشاء تھا کہ آخر کار سعد اللہ کی قطع نسل ہو جائے گی۔ چنانچہ اس کے علامات بھی ظاہر ہو گئے کہ باوجود اس کے کہ پیشگوئی پر بارہ سال کے قریب مدت گزر گئی تب بھی سعد اللہ کے گھر میں پیشگوئی کے بعد الكوثر: