حقیقةُ الوحی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 440 of 830

حقیقةُ الوحی — Page 440

روحانی خزائن جلد ۲۲ ۴۴۰ تتمه حقيقة الوحى ) ترجمہ: بتر کہتے ہیں ایک چیز کا جڑھ سے کاٹ دینا۔ دوسرے معنی بہتر کے یہ ہیں کہ دم وغیرہ کو کاٹ دینا۔ (۱) ابتر اس کو کہتے ہیں جس کی دُم کائی گئی ہو۔ (۲) سانپوں کی اقسام میں سے ایک قسم کے سانپوں کا نام ابتر ہے اس قسم کے سانپ کو شیطان کہتے ہیں اگر حاملہ عورت اُس کو دیکھے تو اُس کا حمل ساقط ہو جاتا ہے (۳) اور حدیث میں ہے کہ ہر ایک امر شاندار جس کو حمد الہی سے شروع نہ کیا جاوے وہ ابتر ہے۔ (۴) اور ابتر اُس کو بھی کہتے ہیں کہ جو عقب نہ رکھتا ہو یعنی اُس کا کوئی بیٹا نہ ہویا بیٹے کا بیٹا نہ ہو۔ لسان العرب میں لکھا گیا ہے کہ عقب والد کو بھی کہتے ہیں اور ولد الولد کو بھی کہتے ہیں۔ پس ان معنوں کی رو سے جس کا بیٹا نہیں وہ بھی ابتر ہے اور جس کے بیٹے کے آگے بیٹا نہیں وہ بھی ابتر ہے مگر جس کے کئی بیٹوں میں سے کسی بیٹے کی نسل چل جائے اُس کو ابتر نہیں کہہ سکتے۔ پس جو شخص مرجائے اور ایسا کوئی بچہ نہ چھوڑے اُس کا نام بھی ابتر ہے اور اس کے موافق خدا تعالیٰ کے اس قول کی تفسیر کی گئی ہے کہ اِنَّ شَانِئَكَ هُوَ الْاَبْتَرُ یہ آیت عاصی بن وائل کے حق میں نازل ہوئی تھی۔ وہ ایک دن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور آپ بیٹھے ہوئے تھے۔ پس عاصی بن وائل نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف اشارہ کر کے کہا کہ یہ ابتر ہے یعنی اس کا کوئی لڑکا نہیں ہے اور نہ لڑکے کا لڑکا۔ تب خدا تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو مخاطب کر کے فرمایا کہ اے محمد جو تیرا بد گو ہے وہی ابتر ہے یعنی مقدر یوں ہے کہ جس اولا د پر وہ ناز کرتا ہے آخر اُس کی اولا دفنا ہو جائے گی۔ گو اس کی زندگی میں یا بعد اُس کے ۔ اور سلسلہ نسل ختم ہو جائے گا۔ یہ تو ظاہر ہے کہ عاص بن وائل اولا در کھتا تھا کیونکہ اگر وہ ابتر یعنی بے اولاد ہوتا تو یہ غیر معقول بات تھی کہ باوجود آپ ابتر ہونے کے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا نام ابتر رکھتا۔ پس خدائے تعالیٰ کی طرف سے یہ پیشگوئی تھی کہ انجام کار اس کی نسل قطع ہو جائے گی ۔ گو اس کی زندگی میں ہو یا بعد اُس کے چنانچہ ایسا ہی ہوا۔ مگر معلوم ہوتا ہے کہ وہ اولا د چھوڑ کر مر گیا تھا لیکن بعد اُس کے اُس کی اولاد کا بھی خاتمہ ہو گیا کیونکہ اگر اولاد اس کے روبرو مرتی تو ضرور اُس کا ذکر کیا جاتا۔ اور باقی ترجمہ یہ ہے کہ اس جگہ ابتر کے یہ معنی بھی جائز ہیں کہ ابتر اُس کو کہتے ہیں کہ ہر ایک خیر سے محروم اور بے نصیب ہو الكوثر :