حقیقةُ الوحی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 439 of 830

حقیقةُ الوحی — Page 439

روحانی خزائن جلد ۲۲ ۴۳۹ تتمه حقيقة الوحى بجز لفظ ابتر کے اور کوئی لفظ مقر ر نہیں۔ اہل عرب اُس شخص کو بہر حال ابتر ہی کہتے ہیں جس کی ﴿۸﴾ اولا داُس کی زندگی میں یا بعد اس کے اپنی موت کی وجہ سے اس کو لا ولد کے نام سے موسوم کرے بلکہ ہر ایک ملک میں ایسے شخص کا نام بہر حال ابتر ہی ہے جس کی نسل باقی نہ رہے اور منقطع النسل کر کے پکارا جائے اور ائمہ لغت عرب میں سے کسی نے یہ بیان نہیں کیا کہ ابتر ہونے کے لئے لازمی طور پر یہ شرط ہے کہ ایک شخص کے اولاد ہو کر اس کی زندگی میں ہی مر جائے۔ اور اگر کسی کی اولا داس کی زندگی میں فوت نہ ہومگر اُس کے مرنے کے بعد فوت ہوکر قطع نسل کر دے تو کیا عرب کی زبان میں ایسے شخص کو کسی اور نام سے موسوم کرتے ہیں۔ بلکہ جیسا کہ ہم بیان کر چکے ہیں اس لفظ کے اصل مادہ میں بہت وسعت ہے کیونکہ عربی میں بتر صرف جڑھ کاٹ دینے کو کہتے ہیں۔ واضح ہو کہ عرب کی زبان میں ابتر کا لفظ ایک وسیع لفظ ہے لسان العرب میں لکھا ہے: البتر : استيصال الشيء قطعًا۔ البتر قطع الذنب و نحوه۔ الابتر: المقطوع الذنب۔ والابتر من الحيات الذى يقال له الشيطان۔ لا تبصره حامل الا اسقطت ۔ وفي الحديث كل امر ذى بال لا يبدء فيه بحمد الله فهوابتر۔ و الابتر : الذي لا عقب له وبه فسر قوله تعالى اِنَّ شَانِئَكَ هُوَ الْاَبْتَرُ نزلت في العاصي ابن وائل وكان دخل على النبي صلى الله عليه وسلّم وهو جالس فقال هذا الابتر أى هذا الذي لا عقب له فقال الله جلّ ثنائه ان شانئک یا محمد هو الا بتر أى المنقطع العقب و جائز ان يكون هو المنقطع عنه كل خير ۔ وفي حديث ابن عباس قال لما قدم ابن الاشرف مكة۔ قالت له قريش انت خير اهل المدينة وسيّدهم قال نعم قالوا الا ترى هذا الصُّنَنيبر الابيتر من قومه يزعم انه خير منّا ونحن اهل الحجيج و اهل السدانة واهل السقاية قال انتم خير منه ۔ فانزلت إِنَّ شَانِئَكَ هُوَ الْاَبْتَرُ ۔ والا بتر المُعد م۔ والابتر الخاسِرُ والا بتر هو الذى لا عروة له من المزاد والدَّلاء ۔ الكوثر :