حقیقةُ الوحی — Page 437
روحانی خزائن جلد ۲۲ ۴۳۷ تتمه حقيقة ا إِنَّ شَانِئَكَ هُوَ الْاَبْتَرُ یعنی تیرے بدگو دشمن سعد اللہ کی قطع نسل کی جائے گی۔ پھر تو اپنے لڑکے کی کیوں کسی جگہ شادی نہیں کرتا تانسل جاری ہو۔ پس قریب قیاس ہے کہ ان بار بار کی ملامتوں کو سن کر سعد اللہ نے کسی جگہ اپنے لڑکے کی نسبت کر دی ہو۔ مگر شادی کی ابھی طیاری ہو رہی تھی کہ سعد اللہ کی دوسرے جہان کی طرف طیاری ہوگئی ۔ پس سعد اللہ کا شادی کا نام لیتے ہی مرجانا یہ بھی ایک نامرادی ہے۔ پس اس میں کیا شک ہو سکتا ہے کہ وہ میری پیشگوئی کے مطابق نامراد مرا۔ اور بلا شبہ یہ ایک ذلت کی موت ہے کہ وہ پیشگوئی کے اس مفہوم کو اپنی کوشش سے دور نہ کر سکا کہ آئندہ اس کی نسل نہیں چلے گی اور نہ اس پیشگوئی کو اپنی طاقت سے رفع کر سکا کہ میری زندگی میں ہی اس کی موت ہوگی اور میری ہر ایک ترقی کو دیکھ کر مرے گا۔ اور مولوی ثناء اللہ صاحب کا اپنے اخبار ۸ / فروری ۱۹۰۷ء میں ابتر کی پیشگوئی کورڈ کرنے کے لئے یہ عذر پیش کرنا کہ سعد اللہ ایک لڑکا چھوڑ گیا ہے پھر کیوں کر اس کو ابتر کہہ سکتے ہیں۔ یہ اس کا ایسا بیان ہے جس سے سمجھا جاتا ہے کہ یا تو اُس نے خود دھو کہ کھایا یا عمداً لوگوں کو دھوکہ دینا چاہتا ہے کیونکہ ہر ایک عقلمند سمجھ سکتا ہے کہ جو کچھ خدا تعالیٰ نے اپنی وحی کے ذریعہ سے میرے پر ظاہر کیا ہے وہ سعد اللہ کی موجودہ حالت کی نسبت بیان نہیں اور ہر ایک کو معلوم ہے کہ پیشگوئی کے وقت میں سعد اللہ کا لڑکا ہعمر پندرہ سال یا چودہ سال موجود تھا اور با وجودلڑ کے کے موجود ہونے کے خدا تعالیٰ نے اپنی پیشگوئی میں اس کا نام ابتر رکھا تھا اور فرمایا تھا کہ إِنَّ شَانِئَكَ هُوَ الْاَبْتَر یعنی خدا نے مجھے مخاطب کر کے فرمایا کہ تیرا بد گوہی ابتر ہوگا نہ کہ تو ۔ چونکہ سعد اللہ اپنی تحریروں میں بار بار میری نسبت یہ ظاہر کرتا تھا کہ یہ شخص مفتری ہے جلد تباہ ہو جائے گا اور کچھ بھی اس کا باقی نہیں رہے گا۔ پس خدا تعالیٰ نے اس کے ان الفاظ کے مقابل پر جو محض شوخی اور شرارت سے بھرے ہوئے تھے یہ فرمایا کہ آخر کار وہ خود تباہ ہو جائے گا اس کا کچھ باقی نہیں رہے گا۔ پس پیشگوئی کے معنی پیشگوئی کو مد نظر رکھ کر کرنے چاہئیں پیشگوئی نے موجودہ لڑکے کو کالعدم قرار دے کر قطع نسل کا وعدہ دیا ہے اور یہ اشارہ کیا ہے کہ اس لڑکے کا ہونا نہ ہونا برا بر ہے ۔ پس اس جگہ قاموس وغیرہ کا ابتر کے معنی کے بارے میں حوالہ دینا صرف