حقیقةُ الوحی — Page 20
روحانی خزائن جلد ۲۲ حقيقة الوح اسی طرح اُن کی دعا اور اُن کی توجہ بھی معمولی دعاؤں اور تو جہات کی طرح نہیں ہوتی بلکہ اپنے اندر ایک شدید اثر رکھتی ہے اور اس میں شک نہیں ہے کہ اگر قضاء مبرم اور ائل نہ ہو اور اُن کی توجہ اپنی تمام شرائط کے ساتھ اُس بلا کے دور کرنے کے لئے مصروف ہو جائے تو خدا تعالیٰ اُس بلا کو دور کر دیتا ہے گو ایک فرد واحد یا چند کس پر وہ بلا نازل ہو یا ایک ملک پر وہ ۱۸ بلا نازل ہو یا ایک بادشاہ وقت پر وہ بلا نازل ہو۔ اس میں اصل یہ ہے کہ وہ اپنے وجود سے فانی ہوتے ہیں اس لئے اکثر اوقات اُن کے ارادہ کا خدا تعالیٰ کے ارادہ سے توارد ہو جاتا ہے۔ پس جب شدت سے اُن کی توجہ کسی بلا کے دور کرنے کے لئے مبذول ہو جاتی ہے اور جیسا کہ درد دل کے ساتھ اقبال علی اللہ چاہیے میسر آجاتا ہے تو سنت الہیہ اسی طرح پر واقع ہے کہ خدا اُن کی سنتا ہے اور ایسا ہی ہوتا ہے کہ خدا اُن کی دعا کو رد نہیں کرتا اور کبھی اُن کی عبودیت ثابت کرنے کے لئے دعاسنی نہیں جاتی تا جاہلوں کی نظر میں خدا کے شریک نہ ٹھیر جائیں اور اگر ایسا اتفاق ہو کہ بلا وارد ہو جائے جس سے موت کے آثار ظاہر ہو جائیں تو اکثر عادت اللہ یہی ہے کہ اُس بلا میں تاخیر نہیں ہوتی اور ایسے وقت میں خدا کے مقبولوں کا ادب یہی ہے کہ دعا کو ترک کر دیں اور صبر سے کام لیں۔ بہتر وقت دعا کا یہی ہے کہ ایسے وقت میں دعا ہو جب اسباب پاس اور نومیدی بکلی ظاہر نہ ہوں اور ایسی علامات نمودار نہ ہوں جن سے صاف طور پر نظر آتا ہو کہ اب بلا دروازہ پر ہے اور ایک طور پر اس کا نزول ہو چکا ہے کیونکہ اکثر سنت یہی ہے کہ جب خدا تعالیٰ نے ایک عذاب کے نازل کرنے میں اپنے ارادہ کو ظاہر کر دیا تو وہ اپنے ارادہ کو واپس نہیں لیتا۔ یہ بالکل سچ ہے کہ مقبولین کی اکثر دعائیں منظور ہوتی ہیں بلکہ بڑا معجزہ اُن کا استجابت دعا ہی ہے جب اُن کے دلوں میں کسی مصیبت کے وقت شدت سے بیقراری ہوتی ہے اور اس شدید بیقراری کی حالت میں وہ اپنے خدا کی طرف توجہ کرتے ہیں تو خدا اُن کی سنتا ہے اور اُس وقت اُن کا ہاتھ گویا خدا کا ہاتھ ہوتا ہے۔ خدا ایک مخفی خزانہ کی طرح ہے کامل مقبولوں