حقیقةُ الوحی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 426 of 830

حقیقةُ الوحی — Page 426

روحانی خزائن جلد ۲۲ ۴۲۶ حقيقة الوح دعا واستغفار میں مشغول رہے اور موت کو ہر دم یا در کھے۔ اور حقوق اللہ وحقوق عباد کے ادا کرنے میں دل و جان سے مصروف رہے اور حتی الوسع غریبوں، ضعیفوں و درماندگان پر رحم کرے جہاں تک ہو سکے اپنی جانوں اور مالوں کو خدا تعالیٰ کی اطاعت میں اس کی رضا مندی حاصل کرنے اور بنی نوع کی ہمدردی کے لئے وقف کرے۔ پنجم اپنے اخلاص دل سے محسن گورنمنٹ کی اطاعت اور شکر گذاری ادا کرتا رہے اور کسی طرح کی نقیض امن و امور بغاوت وغیرہ کا اپنے دل میں خیال تک نہ آنے دے۔ ششم ہر ایک شہر و بستی کے لوگ روزہ رکھیں اور جماعتوں کی جماعتیں جنگلوں اور میدانوں میں نکل کر نہایت بجز اور تضرع کے ساتھ خدا تعالیٰ کے حضور اس بلا کے دفعیہ کے لئے دعا کریں اور اس کے تمام انبیاء وصلحاء کو عموماً اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور حضرت امام الزمان مسیح موعود علیہ السلام کو خصوصاً اس کی جناب میں شفیع لاویں۔ ہفتم ہر ایک قوم ہر ایک گروہ اپنے کچے دل سے تو بہ کر کے خدا اور اس کے کامل رسول صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم و امام الوقت پر ایمان لا کر اپنی مخلصانہ درخواستوں کے ذریعہ سے حضرت اقدس امام الزمان علیہ السلام سے اس آفت کے دفعیہ کے لئے دعا کرا دیں۔ سواگر دنیا میری اس عرضداشت کے ۱۵ مطابق عمل کرے گی تو میں یقین کامل سے کہتا ہوں کہ یہ عذاب اُس خاص شخص یا گھر یا قوم یا شہر یا ملک کے اُس خاص حصے سے جس میں پاک تبدیلی کا نمونہ قائم کیا جاوے بفضلہ تعالیٰ رفع ہوگا کیونکہ اس کا اصل سبب گناہ اور امام الوقت کی مخالفت ہے۔ اس لئے جب تک اصل سبب دور نہ ہو اور غضب الہی کی یہ آگ جو مخالفت اور گناہ کے باعث مشتعل ہورہی ہے فرونہ ہو۔ یہ عذاب دنیا سے موقوف نہ ہو گا مگر میں ڈرتا ہوں کہ دنیا میری اس عرضداشت کو ایک سرسری نگاہ سے نظر انداز کر کے اُس وقت کی انتظاری کرے جبکہ دامن اجابت ہاتھ سے چھوٹ جائے اور تو بہ کا ۱۵) بقیہ حاشیہ نمبر : اپنے الہام کے ذریعہ سے مجھے قوموں کو طاعون سے نجات کی طرف بلانے کے لئے حکم دیا۔ چہارم آسمان سے نورانی اجرام نشان کے طور پر خدا تعالیٰ نے حضرت امام الزمان کی تائید میں اس عاجز کے ہاتھ پر نازل فرمائے۔ پنجم حضور کی طرف سے آپ کی خدمت اور مختار کاری کا منصب عطا ہوا۔ششم حضور کی بیعت کے لئے قوموں کو دعوت کرنے کی خدمت عطا فرمائی گئی۔ اب ان بین دلائل کے بعد شک کرنے کا کون سا محل ہے کہ میں حضور کے ناصروں میں سے