حقیقةُ الوحی — Page 19
روحانی خزائن جلد ۲۲ ۱۹ حقيقة الوحي اسی طرح اُس کی پیشانی کو ایک نور عطا کیا جاتا ہے جو بجز عشاق الہی کے اور کسی کو نہیں دیا جاتا۔ اور بعض خاص وقتوں میں وہ نور ایسا چمکتا ہے کہ ایک کا فر بھی اُس کو محسوس کر سکتا ہے بالخصوص ایسی حالت میں جبکہ وہ لوگ ستائے جاتے اور نصرت الہی حاصل کرنے کے لئے خدا تعالیٰ کی طرف توجہ کرتے ہیں۔ پس وہ اقبال علی اللہ کا وقت ان کے لئے ایک خاص وقت ہوتا ہے اور خدا کا نوران کی پیشانی میں اپنا جلوہ ظاہر کرتا ہے۔ ایسا ہی اُن کے ہاتھوں میں اور پیروں میں اور تمام بدن میں ایک برکت دی جاتی ہے جس کی وجہ سے اُن کا پہنا ہوا کپڑا بھی متبرک ہو جاتا ہے اور اکثر اوقات کسی شخص کو چھونا یا اس (۱۷) کو ہاتھ لگانا اُس کے امراض روحانی یا جسمانی کے ازالہ کا موجب ٹھیرتا ہے۔ اسی طرح اُن کے رہنے کے مکانات میں بھی خدائے عز و جل ایک برکت رکھ دیتا ہے وہ مکان بلاؤں سے محفوظ رہتا ہے خدا کے فرشتے اُس کی حفاظت کرتے ہیں۔ اسی طرح اُن کے شہر یا گانو میں بھی ایک برکت اور خصوصیت دی جاتی ہے۔ اسی طرح اُس خاک کو بھی کچھ برکت دی جاتی ہے جس پر اُن کا قدم پڑتا ہے۔ اسی طرح اس درجہ کے لوگوں کی تمام خواہشیں بھی اکثر اوقات پیشگوئی کا رنگ پیدا کر لیتی ہیں یعنی جب کسی چیز کے کھانے یا پینے یا پہننے یا دیکھنے کی بشدت اُن کے اندر خواہش پیدا ہوتی ہے تو وہ خواہش ہی پیشگوئی کی صورت پکڑ لیتی ہے اور جب قبل از وقت اضطرار کے ساتھ اُن کے دل میں ایک خواہش پیدا ہوتی ہے تو وہ چیز میسر آ جاتی ہے۔ اسی طرح اُن کی رضامندی اور ناراضگی بھی پیشگوئی کا رنگ اپنے اندر رکھتی ہے پس جس شخص پر وہ شدت سے راضی اور خوش ہوتے ہیں اس کے آئندہ اقبال کے لئے یہ بشارت ہوتی ہے اور جس پر وہ بشدت ناراض ہوتے ہیں اُس کے آئندہ ادبار اور تباہی پر دلیل ہوتی ہے کیونکہ باعث فنافی اللہ ہونے کے وہ سرائے حق میں ہوتے ہیں اور اُن کی رضا اور غضب خدا کا رضا اور غضب ہوتا ہے اور نفس کی تحریک سے نہیں بلکہ خدا کی طرف سے یہ حالات اُن میں پیدا ہوتے ہیں۔