حقیقةُ الوحی — Page 419
روحانی خزائن جلد ۲۲ ۴۱۹ حقيقة الوح رہا ہے۔ دنیا کے دم میں دم نہیں رہا۔ مخلوق اپنے بچاؤ کی مختلف تدبیروں میں مشغول ہے مگر افسوس کہ اس کی اصل حقیقت اور علاج سے محض نا واقف ہیں۔ میرے دل میں ہمدردی بنی نوع کا ایک جوش ہے کیونکہ خدا تعالیٰ نے اس کا حقیقی اور قطعی اور یقینی علاج اس عاجز پر ظاہر فرمایا ہے اس لئے میر اول و ایمان و ہمدردی بنی نوع انسان مجھے مجبور کر رہی ہے کہ میں اُس اصل علاج کو جو اس آفت کے دفعیہ کے لئے کافی وشافی ہے اور جس کے اندر دنیا کے بچاؤ کے اسباب موجود ہیں پبلک پر ظاہر کروں تا کہ جن کی قسمت میں اس سعادت سے حصہ لینا مقسوم ہے نجات پائیں ۔ پس واضح ہو کہ اللہ تعالیٰ قریباً عرصہ ایک سال سے اس عاجز پر کشفی رنگ میں ظاہر فرما رہا ہے که یه زمانه روحانی قیامت یعنی صلح و صلاحیت کا زمانہ کا مقدمہ اور آغاز ہے جس کو اہل اسلام کے پیر محاورہ میں فتح اسلام اور مسیحیوں کے نزدیک مسیح کے جلالی نزول اور اس کی بادشاہت کی طرف (۸) ☆ منسوب کیا جاتا ہے اور وہ ایسا زمانہ ہے کہ جس میں شیطانی تسلط اور دجالی فتنت دنیا سے اُٹھائی جائے گی اور زمین روز روشن کی طرح خدا کے جلال کی معرفت سے معمور ہوگی اور حقیقی خدا پرستی ابدی راستبازی امن و صلح کاری دنیا میں قائم ہوگی اور قوم قوم سے اور بادشاہ بادشاہ سے لڑائی نہ کریں گے۔ مذہبی مخالفتیں تمام دنیا سے اُٹھ جائیں گی اور اہل دنیا ایک ہی طریق و دین میں ہو کر صلح و صلاحیت کا کامل نمونہ ظاہر کریں گے اور قومیں جسمانی و روحانی نعمتوں سے مالا مال ہو کر نہایت امن و چین کی حالت میں اپنی زندگی بسر کریں گی اور تمام جنگ و جدال ، فتن و فساد، بغض و عداوت کفر و معصیت ، رنج و مصائب دنیا سے اُٹھائے جائیں گے یہاں تک کہ شیر اور بیل، بھیڑ اور بھیڑ یا اب 鵲 بقیہ حاشیہ نمبر : کی طرف سے ہے کیونکہ اس نے مجھے امام الزمان مسیح موعود علیہ السلام کی صداقت اور آپ کے اس متبرک زمانہ کی چگونگی حالات پر گواہی دینے کے لئے مامور فرمایا ہے جیسا کہ سورہ بروج آیت والیوم الــمــوعـود و شاهدا و مشهود کے مفہوم سے ثابت ہے کیونکہ یوم الموعود یہی زمانہ ہے اور مشہود سے مراد حضرت امام الزمان مسیح موعود علیہ السلام ہیں اور شاہد وہ لوگ ہیں جو خدا تعالیٰ کی طرف سے جناب مدوح کی صداقت پر گواہی دیں گے اس لئے میں اپنے سچے دل سے خدا تعالیٰ کو حاضر و ناظر جان کر یہ گواہی دیتا ہوں کہ بلا شک و شبہ حضرت اقدس میرزا صاحب خدا تعالیٰ کی طرف سے اس زمانہ کے لئے بحیثیت ماموریت منصب امامت پر مشرف ہیں اور جناب کی اطاعت خدا کی خوشنودی کا سبب اور مخالفت اس کے قہر وغضب کا موجب ہے لہذا دنیا کے زیادہ با وجود اس قدر علم کے پھر بھی مخالفت سے نہیں ڈرا ۔ و مشهود