حقیقةُ الوحی — Page 18
روحانی خزائن جلد ۲۲ ۱۸ حقيقة الوحي ہوتی ہیں اور بعض پیشگوئیاں اُس کے اپنے نفس کے متعلق ہوتی ہیں اور بعض اپنی اولاد کے متعلق اور بعض اُس کے دوستوں کے متعلق اور بعض اُس کے دُشمنوں کے متعلق اور بعض عام طور پر تمام دنیا کیلئے اور بعض اُس کی بیویوں اور خویشوں کے متعلق ہوتی ہیں اور وہ امور اسپر ظاہر ہوتے ہیں جو دوسروں پر ظاہر نہیں ہوتے اور وہ غیب کے دروازے اُس کی پیشگوئیوں پر کھولے جاتے ہیں جو دوسروں پر نہیں کھولے جاتے خدا کا کلام اُس پر اُسی طرح نازل ہوتا ہے جیسا کہ خدا کے پاک نبیوں اور رسولوں پر نازل ہوتا ہے اور وہ خن سے پاک اور یقینی ہوتا ہے۔ یہ شرف تو اس کی زبان کو دیا جاتا ہے کہ کیا باعتبار کمیت اور کیا باعتبار کیفیت ایسا بے مثل کلام اس کی زبان پر جاری کیا جاتا ہے کہ دنیا اُس کا مقابلہ نہیں کرسکتی اور اُس کی آنکھ کو 11 کشفی قوت عطا کی جاتی ہے جس سے وہ مخفی در مخفی خبروں کو دیکھ لیتا ہے اور بسا اوقات لکھی ہوئی تحریریں اُس کی نظر کے سامنے پیش کی جاتی ہیں اور مردوں سے زندوں کی طرح ملاقات کر لیتا ہے اور بسا اوقات ہزاروں کوس کی چیزیں اس کی نظر کے سامنے ایسی آجاتی ہیں گویا وہ پیروں کے نیچے پڑی ہیں۔ ایسا ہی اُس کے کان کو بھی مغیبات کے سنے کی قوت دی جاتی ہے اور اکثر اوقات وہ فرشتوں کی آواز کو سن لیتا ہے اور بیقراریوں کے وقت ان کی آواز سے تسلی پاتا ہے اور عجیب تر یہ کہ بعض اوقات جمادات اور نباتات اور حیوانات کی آواز بھی اُس کو پہنچ جاتی ہے۔ فلسفی کو منکر حنانه است- از حواس انبیا بیگانه است اسی طرح اُس کی ناک کو بھی غیبی خوشبو سو سمجھنے کی ایک قوت دی جاتی ہے۔ اور بسا اوقات وہ بشارت کے اُمور کو سونگھ لیتا ہے اور مکروہات کی بد بو اُس کو آ جاتی ہے۔ علی ھذا القیاس اس کے دل کو قوت فراست عطا کی جاتی ہے اور بہت سی باتیں اس کے دل میں پڑ جاتی ہیں اور وہ صحیح ہوتی ہیں ۔ علی ھذا القیاس شیطان اُس پر تصرف کرنے سے محروم ہو جاتا ہے کیونکہ اُس میں شیطان کا کوئی حصہ نہیں رہتا اور بباعث نہایت درجہ فنافی اللہ ہونے کے اُس کی زبان ہر وقت خدا کی زبان ہوتی ہے اور اُس کا ہاتھ خدا کا ہاتھ ہوتا ہے اور اگر چہ اُس کو خاص طور پر الہام بھی نہ ہو تب بھی جو کچھ اس کی زبان پر جاری ہوتا ہے وہ اُس کی طرف سے نہیں بلکہ خدا کی طرف سے ہوتا ہے کیونکہ نفسانی ہستی اُس کی بکلی جل جاتی ہے اور سفلی ہستی پر ایک موت طاری ہو کر ایک نئی اور پاک زندگی اُس کو ملتی ہے جس پر ہر وقت انوار الہی منعکس ہوتے رہتے ہیں۔