حقیقةُ الوحی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 411 of 830

حقیقةُ الوحی — Page 411

روحانی خزائن جلد ۲۲ ۴۱۱ حقيقة ا صاحب اسٹنٹ سرجن پٹیالہ کی نسبت مجھے معلوم ہوئی جس کے الفاظ یہ ہیں : خدا کے مقبولوں میں قبولیت کے نمونے اور علامتیں ہوتی ہیں اور وہ سلامتی کے شہزادے کہلاتے ہیں ان پر کوئی غالب نہیں آسکتا۔ فرشتوں کی کھینچی ہوئی تلوار تیرے آگے ہے پر تو نے وقت کو نہ پہچانا نہ دیکھا نہ جانا رب فرق بين صادق و کاذب۔ انت ترای کل مصلح و صادق خدا تعالیٰ کا یہ فقرہ کہ وہ سلامتی کے شہزادے کہلاتے ہیں یہ خدا تعالیٰ کی طرف سے عبدالحکیم خان کے اس فقرہ کا رڈ ہے کہ جو مجھے کا ذب اور شریر قرار دے کر کہتا ہے کہ صادق کے سامنے شریر فنا ہو جائے گا۔ گویا میں کا ذب ہوں اور وہ صادق اور وہ مرد صالح ہے اور میں شریر ۔ اور خدا تعالیٰ اس کے رد میں فرماتا ہے کہ جو خدا کے خاص لوگ ہیں وہ سلامتی کے شہزادے کہلاتے ہیں۔ ذلت کی موت اور ذلت کا عذاب ان کو نصیب نہیں ہوگا۔ اگر ایسا ہو تو دنیا تباہ ہو جائے اور صادق اور کاذب میں کوئی امر خارق نہ رہے۔ منہ اس فقرہ میں عبد الحکیم خان مخاطب ہے اور فرشتوں کی کھنچی ہوئی تلوار سے آسمانی عذاب مراد ہے کہ جو بغیر ذریعہ انسانی ہاتھوں کے ظاہر ہوگا۔ یعنی تو نے یہ غور نہ کی کہ کیا اس زمانہ میں اور اس نازک وقت میں امت محمدیہ کے لئے کسی دجال کی ضرورت ہے یا کسی مصلح اور مجدد کی ۔ یعنی اے میرے خدا صادق اور کاذب میں فرق کر کے دکھلا ۔ تو جانتا ہے کہ صادق اور مصلح کون ہے۔ اس فقرہ الہامیہ میں عبد الحکیم خان کے اس قول کا رڈ ہے جو وہ کہتا ہے کہ صادق کے سامنے شریر فنا ہو جائے گا۔ پس چونکہ وہ اپنے تیں صادق ٹھیرا تا ہے اور خدا فرماتا ہے کہ تو صادق نہیں ہے میں صادق اور کاذب میں فرق کر کے دکھلاؤں گا۔ منہ المشتهـ میرزا غلام احمد مسیح موعود قادیانی ۱۶ راگست ۱۹۰۶ء مطابق ۲۴ / جمادی الثانی ۱۳۲۴ھ مطبوعہ انوار احمد یہ پریس قادیان دارالامان