حقیقةُ الوحی — Page 410
روحانی خزائن جلد ۲۲ ۴۱۰ حقيقة الـ اس تاریخ سے تین برس تک ہلاک ہو جائے گا جب اس حد تک نوبت پہنچ گئی تو اب میں بھی اس بات میں کچھ مضائقہ نہیں دیکھتا کہ جو کچھ خدا نے اس کی نسبت میرے پر ظاہر فرمایا ہے میں بھی شائع کروں اور در حقیقت اس میں قوم کی بھلائی ہے کیونکہ اگر در حقیقت میں خدا تعالیٰ ۲۵ کے نزدیک کذاب ہوں اور چھپیش برس سے دن رات خدا پر افترا کر رہا ہوں اور اُس کی عظمت اور جلال سے بے خوف ہوکر اُس پر جھوٹ باندھتا ہوں اور اس کی مخلوق کے ساتھ بھی میرا یہ معاملہ ہے کہ میں لوگوں کا مال بد دیانتی اور حرام خوری کے طریق سے کھاتا ہوں اور خدا کی مخلوق کو اپنی بد کرداری اور نفس پرستی کے جوش سے دُکھ دیتا ہوں تو اس صورت میں تمام بد کرداروں سے بڑھ کر سزا کے لائق ہوں تا لوگ میرے فتنہ سے نجات پاویں اور اگر میں ایسا نہیں ہوں جیسا کہ میاں عبد الحکیم خان نے سمجھا ہے تو میں امید رکھتا ہوں کہ (۲) خدا مجھ کو ایسی ذلت کی موت نہیں دے گا کہ میرے آگے بھی لعنت ہو اور میرے پیچھے بھی۔ میں خدا کی آنکھ سے مخفی نہیں مجھے کون جانتا ہے مگر وہی اس لئے میں اس وقت دونوں پیشگوئیاں یعنی میاں عبد الحکیم خان کی میری نسبت پیشگوئی اور اُس کے مقابل پر جو خدا نے میرے پر ظاہر کیا ذیل میں لکھتا ہوں اور اس کا انصاف خدائے قادر پر چھوڑتا ہوں اور وہ یہ ہیں : میاں عبد الحکیم خان صاحب اسٹنٹ سرجن پٹیالہ کی میری نسبت پیشگوئی جو اخویم مولوی نوردین صاحب کی طرف اپنے خط میں لکھتے ہیں اُن کے اپنے الفاظ یہ ہیں ۔ مرزا کے خلاف ۱۲ / جولائی ۱۹۰۶ء کو یہ الہامات ہوئے ہیں۔ مرزا مسرف، کذاب اور عیار ہے۔ صادق کے سامنے شریر فنا ہو جائے گا اور اُس کی میعاد تین سال بتائی گئی ہے جیے اس کے مقابل پر وہ پیشگوئی ہے جو خدا تعالیٰ کی طرف سے میاں عبد الحکیم خان اس میں میاں عبد الحلیم خان نے خدا کے اصل لفظ بیان نہیں کئے بلکہ یہ کہا کہ تین سال میعاد بتائی گئی ۔ منہ