حقیقةُ الوحی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 409 of 830

حقیقةُ الوحی — Page 409

روحانی خزائن جلد ۲۲ ۴۰۹ حقيقة ا بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نحمده و نصلى على رسوله الكريم خُدا نیچے کا حامی ہو امیر اس امر سے اکثر لوگ واقف ہوں گے کہ ڈاکٹر عبد الحکیم خان صاحب جو تخمیناً ہمیں برس تک میرے مریدوں میں داخل رہے چند دنوں سے مجھ سے برگشتہ ہو کر سخت مخالف ہو گئے ہیں اور اپنے رسالہ اصیح الدجال میں میرا نام کذاب مکار شیطان دجال شریر حرام خور رکھا ہے اور مجھے خائن اور شکم پرست اور نفس پرست اور مفسد اور مفتری اور خدا پر افتر اکرنے والا قرار دیا ہے اور کوئی ایسا عیب نہیں ہے جو میرے ذمہ نہیں لگایا۔ گو یا جب سے دنیا پیدا ہوئی ہے ان تمام بدیوں کا مجموعہ میرے سوا کوئی نہیں گذرا۔ اور پھر اسی پر کفایت نہیں کی بلکہ پنجاب کے بڑے بڑے شہروں کا دورہ کر کے میری عیب شماری کے بارہ میں لیکچر دیئے اور لا ہور اور امرت سر اور پٹیالہ اور دوسرے مقامات میں انواع و اقسام کی بدیاں عام جلسوں میں میرے ذمہ لگائیں اور میرے وجود کو دنیا کے لئے ایک خطر ناک اور شیطان سے بدتر ظاہر کر کے ہر ایک لیکچر میں مجھ پر ہنسی اور ٹھٹھا اڑایا۔ غرض ہم نے اس کے ہاتھ سے وہ دکھ اٹھایا جس کے بیان کی حاجت نہیں اور پھر میاں عبدالحکیم صاحب نے اسی پر بس نہیں کی بلکہ ہر ایک لیکچر کے ساتھ یہ پیشگوئی بھی صدہا آدمیوں میں شائع کی کہ " مجھے خدا نے الہام کیا ہے کہ یہ شخص تین سال کے عرصہ میں فنا ہو جائے گا اور اس کی زندگی کا خاتمہ ہو جائے گا کیونکہ کذاب اور مفتری ہے ۔ میں نے اس کی ان پیشگوئیوں پر صبر کیا مگر آج جو ۴ ار اگست ۱۹۰۶ ء ہے پھر اس کا ایک خط ہمارے دوست فاضل جلیل مولوی نورالدین صاحب کے نام آیا اس میں بھی میری نسبت کئی قسم کی عیب شماری اور گالیوں کے بعد لکھا ہے کہ ۱۲ار جولائی ۱۹۰۶ء کو خدا تعالیٰ نے اس شخص کے ہلاک ہونے کی خبر مجھے دی ہے کہ