حقیقةُ الوحی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 407 of 830

حقیقةُ الوحی — Page 407

روحانی خزائن جلد ۲۲ ۴۰۷ حقيقة الوح میں ہی مخصوص کیا گیا اور دوسرے تمام لوگ اس نام کے مستحق نہیں کیونکہ کثرت وحی اور کثرت امور غیبیہ اس میں شرط ہے اور وہ شرط اُن میں پائی نہیں جاتی اور ضرور تھا کہ ایسا ہوتا تا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئی صفائی سے پوری ہو جاتی کیونکہ اگر دوسرے صلحاء جو مجھ سے پہلے گزر چکے ہیں وہ بھی اسی قدر مکالمہ ومخاطبہ الہیہ اور امور غیبیہ سے حصہ پالیتے تو وہ نبی کہلانے کے مستحق ہو جاتے تو اس صورت میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئی میں ایک رخنہ واقع ہو جاتا اس لئے خدا تعالیٰ کی مصلحت نے ان بزرگوں کو اس نعمت کو پورے طور پر پانے سے روک دیا تا جیسا کہ احادیث صحیحہ میں آیا ہے کہ ایسا شخ سیا شخص ایک ہی ہوگا وہ پیشگوئی پوری ہو جائے۔ اور یادر ہے کہ ہم نے محض نمونے کے طور پر چند پیشگوئیاں اس کتاب میں لکھی ہیں مگر دراصل وہ کئی لاکھ پیشگوئی ہے جن کا سلسلہ ابھی تک ختم نہیں ہوا اور خدا کا کلام اس قدر مجھ پر نازل ہوا ہے کہ اگر وہ تمام لکھا جائے تو ہیں جزو سے کم نہیں ہو گا اب ہم اسی قدر پر کتاب کو ختم کرتے ہیں اور خدا تعالیٰ سے چاہتے ہیں کہ اپنی طرف سے اس میں برکت ڈالے اور لاکھوں دلوں کو اس کے ذریعہ سے ہماری طرف کھینچے۔ آمین واخر دعوانا ان الـ ن الحمد لله ربّ العالمین۔ ☆ تمت خدا کے کلام میں یہ امر قرار یافتہ تھا کہ دوسرا حصہ اس اُمت کا وہ ہوگا جو مسیح موعود کی جماعت ہوگی۔ اسی لئے خدا تعالیٰ نے اس جماعت کو دوسروں سے علیحدہ کر کے بیان کیا جیسا کہ وہ فرماتا ہے وَأَخَرِيْنَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمْ لے یعنی اُمت محمدیہ میں سے ایک اور فرقہ بھی ہے جو بعد میں آخری زمانہ میں آنے والے ہیں اور حدیث صحیح میں ہے کہ اس آیت کے نزول کے وقت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ سلمان فارسی کی پشت پر مارا اور فرمایا لو كان الايمان معلقا بالثريا لناله رجل من فارس اور یہ میری نسبت پیشگوئی تھی ۔ جیسا کہ خدا تعالیٰ نے براہین احمدیہ میں اس پیشگوئی کی تصدیق کے لئے وہی حدیث بطور وجی میرے پر نازل کی اور وحی کی رو سے مجھ سے پہلے اس کا کوئی مصداق معین نہ تھا اور خدا کی وحی نے مجھے معین کر دیا۔ فالحمدلله_منه الجمعة :