حقیقةُ الوحی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 406 of 830

حقیقةُ الوحی — Page 406

روحانی خزائن جلد ۲۲ ۴۰۶ حقيقة الـ آ جاتے ہیں کسی مسلمان کا کام نہیں بلکہ ان لوگوں کا کام ہے جو درحقیقت اسلام کے دشمن ہیں۔ اور پھر ایک اور نادانی یہ ہے کہ جاہل لوگوں کو بھڑ کانے کے لئے کہتے ہیں کہ اس شخص نے نبوت کا دعوی کیا ہے حالانکہ یہ اُن کا سراسر افترا ہے بلکہ جس نبوت کا دعوی کرنا قرآن شریف کے رو سے منع معلوم ہوتا ہے ایسا کوئی دعوی نہیں کیا گیا صرف یہ دعوی ہے کہ ایک پہلو سے میں امتی ہوں اور ایک پہلو سے میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے فیض نبوت کی وجہ سے نبی ہوں اور نبی سے مراد صرف اس قدر ہے کہ خدا تعالیٰ سے بکثرت شرف مکالمہ ومخاطبہ پاتا ہوں ۔ بات یہ ہے کہ جیسا کہ مجدد صاحب سرہندی نے اپنے مکتوبات میں لکھا ہے کہ اگر چہ اس امت کے بعض افراد مکالمہ ومخاطبہ الہیہ سے مخصوص ہیں اور قیامت تک مخصوص رہیں گے لیکن جس شخص کو بکثرت اس مکالمہ ومخاطبہ سے مشرف کیا جائے اور بکثرت امور غیبیہ اس پر ظاہر کئے جائیں وہ نبی کہلاتا ہے۔ اب واضح ہو کہ احادیث نبویہ میں یہ پیشگوئی کی گئی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اُمت میں سے ایک شخص پیدا ہوگا جو عیسی اور ابن مریم کہلائے گا۔ اور نبی کے نام سے موسوم کیا جائے گا یعنی اس کثرت سے مکالمہ و مخاطبہ کا شرف اس کو حاصل ہوگا اور اس کثرت سے امور غیبیہ اس پر ظاہر ہوں گے کہ بجز نبی کے کسی پر ظاہر نہیں ہو سکتے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے فَلَا يُظْهِرُ عَلَى غَيْبِمَ أَحَدًا إِلَّا مَنِ ارْتَضَى مِنْ رَّسُولٍ یعنی خدا اپنے غیب پر کسی کو پوری قدرت اور غلبہ (۳۹) نہیں بخشا جو کثرت اور صفائی سے حاصل ہو سکتا ہے بجز اُس شخص کے جو اس کا برگزیدہ رسول ہو اور یہ بات ایک ثابت شدہ امر ہے کہ جس قد ر خدا تعالیٰ نے مجھے سے مکالمہ و مخاطبہ کیا ہے اور جس قدر امور غیبیہ مجھ پر ظاہر فرمائے ہیں تیرہ سو برس ہجری میں کسی شخص کو آج تک بجز میرے یہ نعمت عطا نہیں کی گئی ۔ اگر کوئی منکر ہوتو بار ثبوت اس کی گردن پر ہے۔ غرض اس حصہ کثیر وحی الہی اور امور غیبیہ میں اس امت میں سے میں ہی ایک فرد مخصوص ہوں اور جس قدر مجھ سے پہلے اولیاء اور ابدال اور اقطاب اس اُمت میں سے گزر چکے ہیں ان کو یہ حصہ کثیر اس نعمت کا نہیں دیا گیا ۔ پس اس وجہ سے نبی کا نام پانے کے لئے الجن: ۲۷، ۲۸