حقیقةُ الوحی — Page 17
روحانی خزائن جلد ۲۲ ۱۷ حقيقة الوح روشنی دیکھے اور پھر اُس سے نزدیک ہو جائے یہاں تک کہ اُس آگ میں اپنے تئیں داخل کر دے اور تمام جسم جل جائے اور صرف آگ ہی باقی رہ جائے ۔ اسی طرح کامل تعلق والا دن بدن خدا تعالی کے نزدیک ہوتا جاتا ہے یہاں تک کہ محبت الہی کی آگ میں تمام وجود اُس کا پڑ جاتا ہے اور شعلہ نور سے قالب نفسانی جل کر خاک ہو جاتا ہے اور اُس کی جگہ آگ لے لیتی ہے یہ انتہا اس مبارک محبت کا ہے جو خدا سے ہوتی ہے ۔ یہ امر کہ خدا تعالیٰ سے کسی کا کامل تعلق ، اس کی بڑی علامت یہ ہے کہ صفات الہیہ اُس میں پیدا ہو جاتی ہیں اور بشریت کے رزائل شعلہ نور سے جل کر ایک نئی ہستی پیدا ہوتی ہے اور ایک نئی زندگی نمودار ہوتی ہے (۱۵) جو پہلی زندگی سے بالکل مغائر ہوتی ہے اور جیسا کہ لوہا جب آگ میں ڈالا جائے اور آگ اس کے تمام رگ وریشہ میں پورا غلبہ کر لے تو وہ لوہا بالکل آگ کی شکل پیدا کر لیتا ہے مگر نہیں کہہ سکتے کہ آگ ہے گو خواص آگ کے ظاہر کرتا ہے اسی طرح جس کو شعلہ محبت الہی سر سے پیر تک اپنے اندر لیتا ہے وہ بھی مظہر تجلیات الہیہ ہو جاتا ہے مگر نہیں کہہ سکتے کہ وہ خدا ہے بلکہ ایک بندہ ہے جس کو اُس آگ نے اپنے اندر لے لیا ہے اور اُس آگ کے غلبہ کے بعد ہزاروں علامتیں کامل محبت کی پیدا ہو جاتی ہیں کوئی ایک علامت نہیں ہے تا وہ ایک زیرک اور طالب حق پر مشتبہ ہو سکے بلکہ وہ تعلق صدہا علامتوں کے ساتھ شناخت کیا جاتا ہے منجملہ اُن علامات کے یہ بھی ہے کہ خدائے کریم اپنا فصیح اور لذیذ کلام وقتاً فوقتاً اُس کی زبان پر جاری کرتا رہتا ہے جو الہی شوکت اور برکت اور غیب گوئی کی کامل طاقت اپنے اندر رکھتا ہے اور ایک نور اُس کے ساتھ ہوتا ہے جو بتلاتا ہے کہ یہ یقینی امر ہے ظلنی نہیں ہے ۔ اور ایک ربانی چمک اُس کے اندر ہوتی ہے اور کدورتوں سے پاک ہوتا ہے اور بسا اوقات اور اکثر اور اغلب طور پر وہ کلام کسی زبر دست پیشگوئی پر مشتمل ہوتا ہے اور اس کی پیشگوئیوں کا حلقہ نہایت وسیع اور عالمگیر ہوتا ہے اور وہ پیشگوئیاں کیا باعتبار کمیت اور کیا باعتبار کیفیت بے نظیر ہوتی ہیں کوئی اُن کی نظیر پیش نہیں کر سکتا ۔ اور بیت الہی اُن میں بھری ہوئی ہوتی ہے اور قدرت تامہ کی وجہ سے خدا کا چہرہ اُن میں نظر آتا ہے اور اُس کی پیشگوئیاں نجومیوں کی طرح نہیں ہوتیں بلکہ اُن میں محبوبیت اور قبولیت کے آثار ہوتے ہیں اور ربانی تائید اور نصرت سے بھری ہوئی ایک بڑی علامت کامل تعلق کی یہ ہوتی ہے کہ جس طرح خدا ہر ایک چیز پر غالب ہے اسی طرح وہ ہر ایک دشمن اور مقابلہ کرنے والے پر غالب رہتا ہے۔ كَتَبَ اللهُ لَاغْلِبَنَّ أَنَا وَرُسُلِى منه المجادلة: ٢٢