حقیقةُ الوحی — Page 400
روحانی خزائن جلد ۲۲ ۴۰۰ حقيقة ا نمک پھانک لیا اور دماغ پر بخار چڑھ گئے اور سانس رُک گیا اور گلا گھونٹا گیا پس اس طرح پر خدا نے اُس کو شفا دی اور کشفی پیشگوئی پوری کی ۔ ۱۸۷۔ نشان۔ میرے بڑے بھائی جن کا نام میرزا غلام قادر تھا کچھ مدت تک بیمار رہے جس بیماری سے آخر اُن کا انتقال ہوا جس دن اُن کی وفات مقدر تھی صبح مجھے الہام ہوا کہ جنازہ ۔ اور اگر چہ کچھ آثار ان کی وفات کے نہ تھے مگر مجھے سمجھایا گیا کہ آج وہ فوت ہو جائیں گے اور میں نے اپنے خاص ہم نشینوں کو اس پیشگوئی کی خبر دے دی جواب تک ۳۸۶) زندہ ہیں۔ پھر شام کے قریب میرے بھائی کا انتقال ہو گیا۔ ان تمام پیشین گوئیوں میں جو اس جگہ لکھی گئی ہیں میں نے اختصار کے خیال سے بہت کم گواہوں کا ذکر کیا ہے مگر خدا تعالیٰ کے فضل سے کئی ہزار گواہ ہیں جن کے رو برو یہ پیشین گوئیاں کی گئیں اور پوری ہوئیں بلکہ بعض پیشگوئیوں کے تو کئی لاکھ گواہ ہیں۔ میرا ارادہ تھا کہ ان نشانوں کو تین سو تک اس کتاب میں لکھوں اور وہ تمام نشان جو میری کتاب نزول المسیح اور تریاق القلوب وغیرہ کتابوں میں لکھے گئے ہیں اور دوسرے نئے نشان اس قدر اس میں لکھ دوں کہ تین سو کا عدد پورا ہو جائے مگر تین روز سے میں بیمار ہو گیا ہوں اور آج انتیس ستمبر ۱۹۰۶ ء کو اس قدر غلبہ مرض اور ضعف اور نقاہت ہے کہ میں لکھنے سے مجبور ہو گیا ہوں اگر خدا نے چاہا تو حصہ پنجم براہین احمدیہ میں یہ تین سونشان یا زیادہ اس سے لکھے جاویں گے ۔ بالآخر اس قدر لکھنا ضروری سمجھتا ہوں کہ اگر ان نشانوں سے کسی کا دل تسلی پذیر نہ ہو اور ایسا شخص اُن لوگوں میں سے ہو جو الہام اور وحی کا دعویٰ کرتے ہیں تو اُس کے لئے یہ دوسری راہ کھلی ہے کہ وہ میرے مقابل پر اپنے الہام اپنی قوم کے دو اخباروں میں ایک سال تک شائع کرتا رہے اور دوسری طرف میں وہ تمام