حقیقةُ الوحی — Page 399
روحانی خزائن جلد ۲۲ ۳۹۹ حقيقة ا ایک منٹ کے اندرہی یہ پیشگوئی پوری ہوگئی۔ ایک نادان کہے گا کہ اپنی بیوی کی گواہی کا کیا اعتبار ہے اور نہیں جانتا کہ ہر ایک شخص طبعاً اپنے ایمان کی حفاظت کرتا ہے اور نہیں چاہتا کہ خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر پھر جھوٹ بولے۔ سوا اس کے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اکثر معجزات کے گواہ آنجناب کے دوست اور آنجناب کی بیویاں تھیں اس صورت میں وہ معجزات بھی باطل ہوتے ہیں اور اکثر نشانوں کے دیکھنے والے یہی لوگ ہوتے ہیں کیونکہ ہر وقت ساتھ رہنے کا انہیں کو اتفاق ہوتا ہے دشمنوں کو کہاں نصیب ہوسکتا ہے کہ وہ ان نشانوں کو دیکھ سکیں کہ جو ایک طرف بذریعہ پیشگوئی بتلائے جاتے اور دوسری طرف معاً پورے ہو جاتے ہیں دشمن کا تو دل بھی دور ہوتا ہے اور جسم بھی دور ۔ ۱۸۶۔ نشان ۔ ایسا ہی عرصہ قریباً تین سال کا ہوا ہے کہ صبح کے وقت کشفی طور پر مجھے (۳۸۵) دکھایا گیا کہ مبارک احمد سخت مبہوت اور بدحواس ہو کر میرے پاس دوڑا آیا ہے اور نہایت بے قرار ہے اور حواس اُڑے ہوئے ہیں اور کہتا ہے کہ ابا پانی یعنی مجھے پانی دو! یہ کشف میں نے نہ صرف گھر کے لوگوں کو بلکہ بہتوں کو سنا دیا تھا کیونکہ اس کے وقوع میں ابھی قریباً دو گھنٹے باقی تھے۔ اس کے بعد اُسی وقت ہم باغ میں گئے اور قریباً ۸ بجے صبح کا وقت تھا اور مبارک احمد بھی ساتھ تھا اور مبارک احمد کئی دوسرے چھوٹے بچوں کے ساتھ باغ کے ایک گوشہ میں کھیلتا تھا اور عمر قریباً چار برس کی تھی اُس وقت میں ایک درخت کے نیچے کھڑا تھا میں نے دیکھا کہ مبارک احمد زور سے میری طرف دوڑتا چلا آتا ہے اور سخت بدحواس ہو رہا ہے میرے سامنے آ کر اتنا اس کے منہ سے نکلا کہ ابا پانی ۔ بعد اس کے نیم بیہوش کی طرح ہو گیا اور وہاں سے کنواں قریباً پچاس قدم کے فاصلہ پر تھا میں نے اُس کو گود میں اُٹھالیا اور جہاں تک مجھ سے ہو سکا میں تیز قدم اُٹھا کر اور دوڑ کر کنوئیں تک پہنچا اور اس کے منہ میں پانی ڈالا جب اُس کو ہوش آئی اور کچھ آرام آیا تو میں نے اُس سے اس حادثہ کا سبب دریافت کیا تو اُس نے کہا کہ بعض بچوں کے کہنے سے میں نے بہت سا پسا ہوا