حقیقةُ الوحی — Page 383
روحانی خزائن جلد ۲۲ ۳۸۳ حقيقة الوح اقرار نامہ لکھ دیتا ہوں کہ سند رہے اور کل مجھے انکار کرنے کی گنجائش نہ رہے اور تمام دنیا میں حق و باطل میں تمیز ہو جاوے اور خلق خدا اس واقعہ سے ایک سبق حاصل کرے خصوصاً میرے اہل شہر کو نہایت فائدہ مند اور عبرت ناک نظارہ ہے۔ پس ایک مہینے میں یہ فیصلہ ظاہر ہو جاوے گا۔ المرقوم ۷ رمضان المبارک ۱۳۲۱ ہجری۔ فقیر مرزا ولد ملک فیض بخش سکنہ ملک شیر ولد قلب سکنه دوالمیال ملک فتح محمد بقلم خود در دوالمیال نشان انگوٹھا بقلم خود کریم بخش حافظ شہباز قلم خود سکنه ایضاً حوالدار محمد خان سکنہ ایضاً ملک محمد بخش ولد جلال سکنہ ایضاً ملک سمند خان ولد محمد خان سکنه // ملک دوست محمد ولد شکور سکنه // ملک اعظم سکنہ ایضاً ملک سخی د ته ولد ملک لال سکنه // ملک خدا بخش ولد امام سکنه ایضاً ملک محمد علی ولد بہاؤ بخش سکنہ ایضاً ملک گھیا ولد بختاور سکنه در ملک اللہ دتہ ولد عمر سکنہ ایضاً ملک عبداللہ ولد شا ہولی سکنہ // ملک غلام محمد ولد دولہ سکنہ ایضاً ملک نورمحمد ولد دراب سکنه // ملک مدد ولد معز واللہ سکنہ ایضاً ملک غلام محمد ولد صو به دار احمد جان ملک بہادر ولد کرم سکنہ ایضاً راجہ نمبر دار دوالمیال بہا ؤلا نمبر دار دوالمیال وغیرہ کرم داداحمدی دوالمیال عفی عنہ باشندگان دوالمیال (مهر) حق و باطل میں فیصلہ ہو گیا تمام گواہوں کے روبرو جھوٹے الہم کو اللہ تعالی دنیا سے بہت جلد اٹھا لیتا ہے اور یہ ایک ایسا الہی قانون ہے جو کبھی نہیں بدلتا اس اقرار نامہ کا مقرستمی مرزا جو اپنے کشف پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کی تکذیب کر کے ان کے نابود اور فنا ہونے کی پیشگوئی کر چکا تھا پورے ایک سال کے بعد اسی رمضان کی کے ر تاریخ ۱۳۲۲ھ میں جس میں اقرار نامہ لکھا گیا عذاب طاعون سے ہلاک ہو گیا اور اس سے پہلے اس کی عورت بھی مرگئی اور خود اُس کے گھر کا سلسلہ تباہ ہو گیا لہذا ہمارے اہل وہ کو اس واقعہ سے عبرت چاہیے اور حضرت اقدس کی صداقت پر ایمان لاویں۔ المرقوم ۷ رمضان ۱۳۲۲ھ