حقیقةُ الوحی — Page 355
روحانی خزائن جلد ۲۲ ۳۵۵ حقيقة الـ زندہ رہتا تو کیا میرے دشمن بلکہ دین اسلام کے دشمن دنیا میں ہزاروں اشتہار جاری کر کے ۳۲۲ شور قیامت نہ مچادیتے اور کیا میرا جھوٹا ہونا نقارہ کی چوٹ سے مشہور نہ کیا جاتا ؟ تو پھر اب کیوں بزرگان قوم خاموش ہیں کیا ان لوگوں کی یہی تقویٰ ہے اور یہ کہنا کہ یہ مباہلہ نہیں۔ فرض کیا کہ یہ مباہلہ نہیں مگر محمد طاہر کی ریس کر کے بددعا تو ہے جس کے مقابل میرا الہام ہے که انى مهين من اراد اهانتک پس یہ کیا ہوا کہ اس بد دعا سے میرا تو کچھ نہ بگڑا مگر خدا تعالیٰ کے الہام انی مهین من اراد اهانتک نے کھلا کھلا اثر دکھا دیا اور اسی بددعا کو بموجب آیت عَلَيْهِمْ دَابِرَةُ السَّوْءِ غلام دستگیر پر نازل کر دیا۔ اور جو شخص محمد طاہر کا ثانی بننا چاہتا تھا اس کو خدا نے جھوٹے مسیح کا ثانی بنا دیا اور اُس کے مرنے کے بعد میرے پر برکت پر برکت نازل کی گئی۔ کئی لاکھ انسان مرید ہو گئے اور اس کی وفات کے بعد تین بیٹے پیدا ہوئے اور کئی لاکھ روپیہ آیا اور قریباً تمام دنیا میں عزت کے ساتھ خدا نے مجھے مشہور کر دیا۔ شاید ہمارے مخالف اب یہ کہیں گے کہ وہ جھوٹا مسیح اور جھوٹا مہدی جو محمد طاہر کی بددعا سے مرگیا تھا وہ بھی ایک اتفاقی موت تھی محمد طاہر کی دعا کا اثر نہ تھا پس ایسی باتوں کا ہم کہاں تک جواب دے سکتے ہیں چاہیں تو وہ دہریہ بن جائیں اور یہ کہہ دیں کہ غلام دستگیر کی موت بھی اتفاقی ہے ظاہراً علامات تو یہی معلوم ہوتی ہیں۔ کیوں نہیں لوگو تمہیں حق کا خیال دل میں اُٹھتا ہے میرے سو سو اُبال اس قدر کین و تعصب بڑھ گیا جس سے کچھ ایماں جو تھا وہ سڑ گیا کیا یہی تقویٰ یہی اسلام تھا جس کے باعث سے تمہارا نام تھا غرض خدا کا یہ الہام که انی مهین من اراد اهانتک صدہا جگہ پر بڑے زور سے ظاہر ہوا اور ظاہر ہو رہا ہے اس میں کیا بھید ہے کہ وہ قادر اس قدر میری حمایت کرتا ہے یہی بھید ہے کہ وہ نہیں چاہتا کہ اُس کا محب ضائع ہو۔ چه شیرین منظری اے دلستانم چه شیرین خصلتی اے جانِ جانم التوبة: ٩٨