حقیقةُ الوحی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 12 of 830

حقیقةُ الوحی — Page 12

روحانی خزائن جلد ۲۲ ۱۲ حقيقة الوح خص صرف گذشتہ زمانہ کا ہی حوالہ دیتا ہے اور جن انسانی طاقتوں اور کمالات کا اس کو دعویٰ ہے وہ کسی انسان میں دکھلا نہیں سکتا اور کہتا ہے کہ وہ قو تیں اور طاقتیں آگے نہیں بلکہ پیچھے رہ گئی ہیں ایسا شخص تو تحقیق کی رو سے آخر کار جھوٹا ہی ٹھہرتا ہے کیونکہ جس حالت میں فیاض مطلق نے جو کچھ انسانی فطرت کے جسمانی حصہ کو قو تیں عطا کی تھیں جیسے قوت باصرہ، سامعہ،شامہ،لامسه، حافظه، متفکرہ وغیرہ۔ وہ اب تک انسانوں میں پائی جاتی ہیں تو پھر کیونکر خیال کیا جائے کہ جو روحانی قوتیں انسانوں میں پہلے زمانوں میں تھیں اس زمانہ میں 10 وہ تمام قوتیں اُن کی فطرت سے مفقود ہوگئی ہیں حالانکہ وہ قو تیں جسمانی قوتوں کی نسبت تکمیل نفس انسان کے لئے زیادہ تر ضروری ہیں اور کیونکر انکار ہوسکتا ہے کہ جس حالت میں کہ مشاہدہ ثابت کر رہا ہے کہ وہ مفقود نہیں ہوئیں ۔ اس سے ظاہر ہے کہ کس قدر وہ مذہب سچائی سے دور ہیں کہ یہ تو اُن کو اقرار ہے کہ انسانی فطرت کی جسمانی اور معقولی قو تیں اب بھی ایسی ہی ہیں جیسا کہ پہلے تھیں مگر اس سے وہ منکر ہیں کہ انسانوں میں روحانی قوتیں اب بھی ایسی ہی پائی جاتی ہیں جیسا کہ پہلے تھیں ۔ اس تمام تقریر سے ہمارا مدعا یہ ہے کہ کسی شخص کا محض سچی خوابوں کا دیکھنا یا بعض سچے الہامات کا مشاہدہ کرنا یہ امر اس کے کسی کمال پر دلیل نہیں ہے جب تک کہ اس کے ساتھ دوسرے علامات نہ ہوں جو ہم انشاء اللہ القدیر تیسرے باب میں بیان کریں گے بلکہ یہ صرف دماغی بناوٹ کا ایک نتیجہ ہے اسی وجہ سے اس میں نیک یار است باز ہونے کی شرط نہیں اور نہ مومن اور مسلمان ہونا اس کے لئے ضروری ہے اور جس طرح محض دماغی بناوٹ کی وجہ سے بعض کو سچی خوا ہیں آجاتی ہیں یا الہام کے رنگ میں کچھ معلوم ہو جاتا ہے اسی طرح دماغی بناوٹ کی وجہ سے بعض کی طبیعت معارف اور حقائق سے مناسبت رکھتی ہے اور لطیف لطیف باتیں ان کو سو جھتی ہیں لیکن دراصل وہ لوگ اس حدیث صحیح کا مصداق ہوتے ہیں کہ امن شعره و کفر قلبه یعنی اس کا شعر ایمان لایا مگر اُس کا دل کا فر ہے۔ اسی لئے صادق کو شناخت کرنا ہر ایک سادہ لوح کا کام نہیں اے بسا ابلیس آدم روئے ہست ۔ پس بہر دستے نباید داد دست ۔ اور پھر ساتھ اس کے یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ اِس درجہ کے لوگوں کو جو خوا ہیں یا الہامات ہوتے ہیں وہ