حقیقةُ الوحی — Page 350
روحانی خزائن جلد ۲۲ ۳۵۰ حقيقة الوح نہیں دیا جاتا کہ کیا باعتبار کیفیت اور کیا باعتبار کمیت غیب کے دروازے اُس پر کھولے جائیں ہاں شاذ و نادر کے طور پر عام لوگوں کو کوئی کچی خواب آسکتی ہے یا سچا الہام ہوسکتا ہے اور وہ بھی تاریکی سے خالی نہیں ہوتا مگر غیب کے دروازے اُن پر نہیں کھلتے یہ موہبت محض خدا کے برگزیدہ رسولوں کے لئے ہوتی ہے۔ ۱۵۱ نشان۔ جب میں نے اپنی کتاب براہین احمدیہ تصنیف کی جو میری پہلی تصنیف ہے تو مجھے یہ مشکل پیش آئی کہ اُس کی چھپوائی کے لئے کچھ روپیہ نہ تھا اور میں ایک گمنام آدمی تھا مجھے کسی سے تعارف نہ تھا تب میں نے خدا تعالیٰ کی جناب میں دعا کی تو یہ الہام ہوا (۳۳۷ هز اليك بجذع النخلة تساقط عليك رطبًا جنیا ، دیکھو براہین احمدیہ صفحہ ۲۲۶۔ (ترجمہ) کھجور کے تنے کو ہلا تیرے پر تازہ بتازہ کھجوریں گریں گی۔ چنانچہ میں نے اس حکم پر عمل کرنے کے لئے سب سے اول خلیفہ سید محمد حسن صاحب وزیر ریاست پٹیالہ کی طرف خط لکھا پس خدا نے جیسا کہ اُس نے وعدہ کیا تھا اُن کو میری طرف مائل کر دیا اور انہوں نے بلا توقف اڈھائی سو روپیہ بھیج دیا اور پھر دوسری دفعہ اڑھائی سو روپیہ دیا اور چند اور آدمیوں نے روپیہ کی مدد کی اور اس طرح پر وہ کتاب با وجود نومیدی کے چھپ گئی اور وہ پیشگوئی پوری ہوگئی۔ یہ واقعات ایسے ہیں کہ صرف ایک دو آدمی ان کے گواہ نہیں بلکہ ایک جماعت کثیر گواہ ہے جس میں ہندو بھی ہیں۔ اس جگہ ایک نکتہ یادر کھنے کے لائق ہے کہ یہ وحی الہی کہ هز الیک بجذع النخلة یہ حضرت مریم کو قرآن شریف میں خطاب ہے جب متن کتاب ھذا میں او پر لکھ چکا ہوں کہ کتاب براہین احمدیہ میں اوّل خدا نے میرا نام مریم رکھا اور پھر فرمایا کہ میں نے اس مریم میں صدق کی روح پھونکنے کے بعد اس کا نام عیسی رکھ دیا گویا مریمی حالت سے عیسی پیدا ہو گیا اور اس طرح میں خدا کے کلام میں ابن مریم کہلایا۔ اس بارہ میں قرآن شریف میں بھی ایک اشارہ ہے اور وہ میرے لئے بطور پیشگوئی کے ہے یعنی اللہ تعالیٰ قرآن شریف میں اس اُمت کے بعض افراد کو مریم سے تشبیہ دیتا ہے اور پھر کہتا ہے کہ وہ مریم عیسی سے حاملہ ہوگئی اور اب ظاہر ہے کہ اس اُمت میں بجز میرے کسی نے اس بات کا دعوی نہیں کیا کہ میرا نام خدا نے مریم رکھا اور پھر