حقیقةُ الوحی — Page 11
روحانی خزائن جلد ۲۲ 11 حقيقة الوح اس کے نیچے پانی ہے مگر وہ پانی زمین کی کئی تہوں کے نیچے دبا ہوا ہے اور کئی قسم کا کیچڑ اس کے ساتھ ملا ہوا ہے اور جب تک ایک پوری مشقت سے کام نہ لیا جائے اور زمین کو بہت دنوں تک کھودا نہ جائے تب تک وہ پانی جو شفاف اور شیریں اور قابل استعمال ہے نکل نہیں سکتا پس یہ کمال شقوت اور نادانی اور بد بختی ہے کہ یہ سمجھ لیا جائے کہ انسانی کمال بس اسی پر ختم ہے کہ کسی کو کوئی سچی خواب آجائے یا سچا الہام ہو جائے بلکہ انسانی کمال کے لئے اور بہت سے لوازم اور شرائط ہیں اور جب تک وہ متحقق نہ ہوں تب تک یہ خوا ہیں اور الہام بھی مکر اللہ میں داخل ہیں خدا اُن کے شر سے ہر ایک سالک کو محفوظ رکھے۔ اس جگہ پر الہام کے فریفتہ کو یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ وحی دو قسم کی ہے ۔ وحی الا بتلا اور وحی الاصطفاء، وحی الا بتلا بعض اوقات موجب ہلاکت ہو جاتی ہے جیسا کہ بلعم اسی وجہ سے ہلاک ہوا مگر صاحب وحی الاصطفاء بھی ہلاک نہیں ہوتا اور وحی الا بتلا بھی ہر ایک کو حاصل نہیں ہوتی بلکہ بعض انسانی طبیعتیں ایسی بھی ہیں کہ جیسے جسمانی طور پر بہت سے لوگ گونگے اور بہرے اور اندھے پیدا ہوتے ہیں ایسا ہی بعض کی روحانی قوتیں کا لعدم ہوتی ہیں اور جیسے اندھے دوسروں کی رہنمائی سے اپنا گزارہ کر سکتے ہیں ایسا ہی یہ لوگ بھی کرتے ہیں لیکن بوجہ عام شہادت کے جو بداہت کا حکم رکھتی ہے اُن کو ان واقعات حقہ سے انکار نہیں ہو سکتا اور نہیں کہہ سکتے کہ دوسرے تمام لوگ بھی اُن کی طرح اندھے ہی ہیں جیسا کہ ہر روز مشاہدہ میں آتا ہے کہ کوئی اندھا اس بات پر جھگڑا نہیں کر سکتا کہ سوجا کھا ہونے کا دعوی کرنے والے جھوٹے ہیں اور نہ اس سے انکار کر سکتا ہے کہ بجز اس کے ہزاروں آدمیوں کی آنکھیں موجود ہیں کیونکہ وہ دیکھتا ہے کہ وہ لوگ اپنی آنکھوں سے کام لیتے ہیں اور وہ کام کر سکتے ہیں جو اندھا نہیں کر سکتا ہاں اگر کوئی ایسا زمانہ آتا جس میں سب لوگ اندھے ہی اندھے ہوتے اور ایک بھی سو جا کھا نہ ہوتا تب اس بحث کے پیدا ہونے کے وقت کہ گذشتہ زمانوں میں سے کوئی ایسا زمانہ بھی تھا کہ اس میں سو جا کھے ہی پیدا ہوتے تھے ۔ اندھوں کو انکار اور لڑائی اور جھگڑے کی بہت گنجائش تھی بلکہ میرے خیال میں ہے کہ انجام کار اس بحث میں اندھوں کی ہی فتح ہوتی کیونکہ جو