حقیقةُ الوحی — Page 334
روحانی خزائن جلد ۲۲ ۳۳۴ حقيقة الـ یہ بات یادر ہے کہ اس جگہ ایک نشان نہیں بلکہ دونشان ہیں (۱) ایک یہ ک لیکھرام کے مارے جانے کی بذات خود ایک عظیم الشان پیشگوئی ہے جس میں اس کے مارے جانے کا دن بتلایا گیا۔ موت کی قسم بتلائی گئی۔ مدت بتلائی گئی وقت بتلایا گیا۔ (۲) دوسری یہ کہ با وجود ہزار کوشش اور سعی کے قاتل کا کچھ بھی پتہ نہیں لگا گویا وہ آسمان پر چڑھ گیا یا زمین کے اندر مخفی ہو گیا ۔ اگر قاتل پکڑا جاتا اور پھانسی مل جاتا تو پیشگوئی کی یہ وقعت نہ رہتی بلکہ اُس وقت ہر ایک کہہ سکتا تھا کہ جیسے لیکھرام مارا گیا قاتل بھی مارا گیا مگر قاتل ایسا گم ہوا کہ نہیں معلوم کہ آیا وہ آدمی تھا یا فرشتہ تھا جو آسمان پر چڑھ گیا۔ ۱۳۸۔ نشان۔ یادر ہے کہ خدا کے بندوں کی مقبولیت پہچاننے کے لئے دعا کا قبول ہونا بھی ایک بڑا نشان ہوتا ہے بلکہ استجابت دعا کی مانند اور کوئی بھی نشان نہیں کیونکہ استجابت دعا سے ثابت ہوتا ہے کہ ایک بندہ کو جناب الہی میں قدر اور عزت ہے۔ اگر چہ دعا کا قبول ہو جانا ہر جگہ لازمی امر نہیں کبھی کبھی خدائے عز و جل اپنی مرضی بھی اختیار کرتا ہے لیکن اس میں کچھ بھی شک نہیں کہ مقبولین حضرت عزت کے لئے یہ بھی ایک نشانی ہے کہ یہ نسبت دوسروں کے کثرت سے اُن کی دعائیں قبول ہوتی ہیں اور کوئی استجابت دعا کے مرتبہ میں اُن کا مقابلہ نہیں کر سکتا اور میں خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر کہ سکتا ہوں کہ ہزارہا میری دعائیں قبول ہوئی ہیں اگر میں سب کو لکھوں تو ایک بڑی کتاب ہو جائے اور کسی قدر میں پہلے بھی لکھ چکا ہوں اور اس جگہ بھی چند دعاؤں کا قبول ہو نا تحریر کرتا ہوں چنانچہ من جملہ اُن کے استجابت دعا کا ایک یہ نشان ہے کہ ایک میرے مخلص سید ناصر شاہ نام جو اب کشمیر بارہ مولہ میں اور سیئر ہیں وہ اپنے افسروں کے ماتحت نہایت تنگ تھے اور کئی آدمی اُن کی ترقی کے حارج تھے بلکہ اُن کی ملا زمت خطرہ میں تھی۔ ایک دفعہ انہوں نے مصمم ارادہ کر لیا کہ میں استعفا دے دیتا ہوں تا اس ہر روزہ تکلیف سے نجات پاؤں ۔ میں نے اُن کو منع کیا مگر وہ اس قدر ملازمت سے عاجز آگئے تھے کہ انہوں نے بار بار نہایت عجز و انکسار سے عرض کی کہ مجھے اجازت دی جائے