حقیقةُ الوحی — Page 331
روحانی خزائن جلد ۲۲ ۳۳۱ حقيقة الوحى میں ویدوں کی ان سب تعلیموں کو دلی یقین سے مانتا ہوں اور میں یہ بھی مانتا ہوں کہ پر میشر (۳۱۸ گناہوں کو بالکل نہیں بخشا ( عجیب پر میشر ہے) میرا کسی شفاعت یا سفارش پر بھروسہ نہیں (یعنی) کسی کی دعا کسی کے حق میں قبول نہیں ہوتی ) میں خدا کو راشی یا ظالم نہیں جانتا ( لفظ مرتشی ہے جس کے معنی ہیں رشوت لینے والا راشی لفظ نہیں ہے لیکھرام کی علمیت کا یہ نمونہ ہے کہ بجائے مرتشی کے راشی لکھتا ہے ) اور میں وید کی رو سے اس بات پر کامل و صحیح یقین رکھتا ہوں کہ چاروں وید ضرور ایشر کا گیان ہے ان میں ذرا بھی غلطی یا جھوٹ یا کوئی قصہ کہانی نہیں۔ ان کو ہمیشہ ہرنئی دنیا میں پر ماتما جگت کی ہدایت عام کے لئے پر کاش کیا کرتا ہے۔ اس سرٹی کے آغاز میں جب انسانی خلقت شروع ہوئی پر ماتم نے ویدوں کو شری آگئی، شری وایو، شرقی آدت، شری انگرہ جیو چار رشیوں کے آتماؤں میں الہام دیا مگر جبرئیل یا کسی اور چٹھی رسان کی معرفت نہیں بلکہ خود ہی کیونکہ وہ حاشیہ: جسمانی نظام پر نظر ڈالنے سے معلوم ہوتا ہے کہ انسان ہوا کے ذریعہ سے سنتا ہے اور سورج کے ذریعہ سے دیکھتا ہے پھر جسمانی نظام میں یہ دو چٹھی رسان کیوں مقرر کئے گئے حالانکہ خدا کا جسمانی روحانی قانون با ہم مطابق ہونا چاہیے۔ افسوس وید کا گیان ہر جگہ پر صحیفہ قدرت کے مخالف پڑا ہے اور کون کہتا ہے کہ خدا ہر جگہ نہیں بلکہ وہ ہر جگہ بھی ہے اور ذ والعرش بھی ہے۔ نادان اس معرفت کے نکتہ کونہیں سمجھتا۔ یہ بات سوچنے کے لائق ہے کہ اگر چہ اس عالم میں سب کچھ خدا تعالیٰ کے حکم سے ہوتا ہے مگر پھر بھی اس نے اپنی قضا و قدر کے نافذ کرنے کے وسائط رکھے ہیں مثلاً ایک زہر جو انسان کو ہلاک کرتی ہے اور ایک تریاق جو فائدہ بخشتا ہے کیا ہم گمان کر سکتے ہیں کہ یہ دونوں خود بخو دانسان کے بدن میں تا خیر کرتے ہیں؟ ہرگز نہیں بلکہ وہ خدا کے حکم سے تاثیر مخالف یا موافق کرتے ہیں۔ پس وہ بھی ایک قسم کے فرشتے ہیں بلکہ ذرہ ذرہ عالم کا جس سے انواع و اقسام کے تغیرات ہوتے رہتے ہیں یہ سب خدا کے فرشتے ہیں اور توحید پوری نہیں ہوتی جب تک ہم ڈروڈ رو کو خدا تعالی کے فرشتے نہ مان لیں کیونکہ اگر ہم تمام مؤثرات کو جو دنیا میں پائے جاتے ہیں خدا کے فرشتے تعلیم نہ کریں تو پھر ہمیں اقرار کرنا پڑے گا کہ یہ تمام تغیرات انسانی جسم اور تمام عالم میں بغیر خدا تعالیٰ کے علم اور ارادہ اور مرضی کے خود بخود ہو رہے ہیں اور اس صورت میں خدا کو محض معطل اور بے خبر مانا پڑے گا۔ پس فرشتوں پر ایمان لانے کا یہ راز ہے کہ بغیر اس کے تو حید قائم نہیں رہ سکتی اور ہر ایک چیز کو اور ہر ایک تا ثیر کو خدا تعالیٰ کے ارادہ سے باہر ماننا پڑتا ہے اور فرشتہ کا مفہوم تو یہی ہے کہ وہ چیزیں ہیں جو خدا کے حکم سے کام کر رہی ہیں ۔ پس جبکہ یہ قانون ضروری اور مسلم ہے تو پھر جبرائیل اور میکائیل سے کیوں انکار کیا جائے۔ منہ