حقیقةُ الوحی — Page 330
روحانی خزائن جلد ۲۲ ۳۳۰ حقيقة الوحى (۳۱۷) اس انصافانہ تعلیم کو بھی میں تسلیم کرتا ہوں کہ مکتی یعنی نجات کرموں کے مطابق مہما کلب تک ملتی ہے ( یعنی دائگی نجات نہیں صرف ایک مقررہ مدت تک ہے ) بعد اس کے پر ماتما کی نیا کے مطابق پھر جسم انسانی لینا پڑتا ہے۔ محدود کرموں کا بے حد پھل نہیں ( کرم تو محدود ہیں مگر وفادار پرستار کی نیت محدود نہیں ہوتی اور نیز کرم کا محدود ہونا اس کی مرضی سے نہیں) بقیہ حاشیہ : ابھی لیکھرام نے اپنے مضمون مباہلہ میں لکھا ہے مگر معلوم نہیں کہ وہ کس طور کا پتا ہے کیا اس طور کا پتا جیسا کہ ایک معنی ایک اجنبی شخص کو اپنا باپ کہ دیتا ہے یا ایسا پنا جو نیوگ کے ذریعہ سے فرضی طور پر بنایا جاتا ہے اور ایک آریہ کی عورت اپنی پاکدامنی کو خاک میں ملا کر دوسرے سے اپنا منہ کالا کراتی ہے اور اس طرح پر اُس عورت کا خاوند اس بچہ کا پتا بن جاتا ہے جو نیوگ کے ذریعہ سے حاصل کیا جاتا ہے پس اگر پر میشر آریوں کا ایسا ہی پتا ہے تب تو ہمیں کلام کرنے کی گنجائش نہیں لیکن اگر اس طرح کا پتا ہے کہ ارواح اور ذرات عالم معہ اپنی تمام قوتوں کے اُس کے ہاتھ سے نکلے ہیں اور اُسی سے وجود پذیر ہیں تو یہ بات آریوں کے اصول کے بر خلاف ہے اگر پوچھو کہ کیوں اُن کے اصول کے برخلاف ہے تو واضح ہو کہ آریوں کے اصول کے مطابق تمام ارواح پر میشر کے قدیمی شریک ہیں جو اس سے وجود پذیر نہیں ہوئیں تو پھر ہم پر میشر کو اُن کا پتا کیونکر کہہ سکتے ہیں وہ تو خود بخود ہیں جیسے کہ پر میشر خود بخود مگر یہ اصول غلط ہے معرفت کی آنکھ سے دیکھنے والے معلوم کر سکتے ہیں کہ جیسا کہ باپ میں قو تیں اور خاصیتیں اور خصلتیں ہوتی ہیں ویسی ہی بیٹے میں بھی پائی جاتی ہیں پس اسی طرح چونکہ ارواح خدا تعالیٰ کے ہاتھ سے نکلی ہیں اُن میں فلمی طور پر وہ رنگ پایا جاتا ہے جو خدا کی ذات میں موجود ہے اور جیسے جیسے خدا کے بندے اس کی محبت اور پرستش کے ذریعہ سے صلوت اور پاکیزگی میں ترقی کرتے ہیں وہ رنگ تیز ہوتا جاتا ہے یہاں تک کہ فلی طور پر ایسے انسانوں میں خدا کے انوار ظاہر ہونے شروع ۳۱۸ ہو جاتے ہیں ۔ صاف طور پر ہمیں دکھائی دیتا ہے کہ انسانی فطرت میں خدا کے پاک اخلاق مخفی ہیں جو تز کیہ نفس سے ظاہر ہو جاتے ہیں مثلاً خدا رحیم ہے ایسا ہی انسان بھی تزکیہ نفس کے بعد رحم کی صفت سے حصہ لیتا ہے ۔ خدا جواد ہے ایسا ہی انسان بھی تزکیہ نفس کے بعد جود کی صفت سے حصہ لیتا ہے ایسا ہی خدا ستار ہے خدا کریم ہے خدا غفور ہے اور انسان بھی تزکیہ نفس کے بعد ان تمام صفات سے حصہ لیتا ہے۔ پس کس نے یہ صفات فاضلہ انسان کی روح میں رکھ دیئے ہیں۔ اگر خدانے رکھے ہیں تو اس سے ثابت ہے کہ وہ ارواح کا خالق ہے اور اگر کوئی یہ کہے کہ خود بخود ہیں تو اس کا جواب یہی کافی ہے کہ لعنة الله على الكاذبين منه