حقیقةُ الوحی — Page 323
روحانی خزائن جلد ۲۲ ۳۲۳ حقيقة الوح اسرار اور حقائق سے نا آشنا ہیں ۔ اور یہ امر کہ مسیح موعود دجال کے مقابل پر خانہ کعبہ کا طواف کرے گا یعنی دجال بھی خانہ کعبہ کا طواف کرے گا اور مسیح موعود بھی۔ اس کے معنی خود ظاہر ہیں کہ اس طواف سے ظاہری طواف مراد نہیں ورنہ یہ ماننا پڑے گا کہ دجال خانہ کعبہ میں داخل ہو جائے گا یا یہ کہ مسلمان ہو جائے گا۔ یہ دونوں باتیں خلاف نصوص حدیثیہ ہیں۔ پس بہر حال یہ حدیث قابل تاویل ہے اور اس کی وہ تاویل جو خدا نے میرے پر ظاہر فرمائی ہے وہ یہ ہے کہ آخری زمانہ میں ایک گروہ پیدا ہو گا جس کا نام دجال ہے وہ اسلام کا سخت دشمن ہوگا اور وہ اسلام کو نابود کرنے کے لئے جس کا مرکز خانہ کعبہ ہے چور کی طرح اُس کے گرد طواف کرے گا تا اسلام کی عمارت کو بیخ و بن سے اکھاڑ دے اور اس کے مقابل پر مسیح موعود بھی مرکز اسلام کا طواف کرے گا جس کی تمثی صورت خانہ کعبہ ہے اور اس طواف سے مسیح موعود کی غرض یہ ہوگی کہ اس چور کو پکڑے جس کا نام دجال ہے اور اس کی دست درازیوں سے مرکز اسلام کو محفوظ رکھے۔ یہ بات ظاہر ہے کہ رات کے وقت چور بھی گھروں کا طواف کرتا ہے اور چوکیدار بھی۔ چور کی غرض طواف سے یہ ہوتی ہے کہ نقب لگاوے اور گھر والوں کو تباہ کرے اور چوکیدار کی غرض طواف سے یہ ہوتی ہے کہ چور کو پکڑے اور اُس کو سخت عقوبت کے زندان میں داخل کرا دے تا اس کی بدی سے لوگ امن میں آجا دیں ۔ پس اس حدیث میں اسی مقابلہ کی طرف اشارہ ہے کہ آخری زمانہ میں وہ چور جس کو دجال کے نام سے موسوم کیا گیا ہے ناخنوں تک زور لگائے گا کہ اسلام کی عمارت کو منہدم کر دے اور مسیح موعود ا حاشیہ : خدا تعالیٰ نے سورۃ فاتحہ میں ہمیں یہ تعلیم دی ہے کہ وہ دجال جس سے ڈرایا گیا ہے وہ آخری زمانہ کے گمراہ پادری ہیں جنہوں نے حضرت عیسی کا طریق چھوڑ دیا ہے کیونکہ اس نے سورہ محدوحہ میں یہی دعا سکھلائی ہے کہ ہم خدا سے چاہتے ہیں کہ ایسے یہودی نہ بن جائیں جن پر حضرت عیسی کی نافرمانی اور عداوت سے غضب نازل ہوا تھا اور نہ ایسے عیسائی بن جائیں جنہوں نے حضرت عیسی کی تعلیم کو چھوڑ کر اس کو خدا بنا دیا تھا اور ایک ایسا جھوٹ اختیار کیا جو تمام جھوٹوں سے بڑھ کر ہے اور اس کی تائید میں حد سے زیادہ فریب اور مکر استعمال میں لائے ۔ اس لئے آسمان پر ان کا نام دجال رکھا گیا اگر کوئی اور دجال ہوتا تو اس آیت میں اس سے پناہ مانگنی ضروری تھی یعنی سورہ فاتحہ میں بجائے ولا الضالین کے ولا الدجال ہونا چاہیے تھا اور یہی معنی واقعات نے ظاہر کئے ہیں کیونکہ جس آخری فتنہ سے ڈرایا گیا تھا زمانہ نے اسی فتنہ کو پیش کیا ہے جو تثلیث پر غلو کرنے کا فتنہ ہے۔ منہ ۳۱۰