حقیقةُ الوحی — Page 322
روحانی خزائن جلد ۲۲ ۳۲۲ حقيقة الوحى (۳۰۹) لوگوں نے اس سے پہلے خارق عادت امر کا عیسی بن مریم میں نتیجہ نہیں دیکھ لیا جس نے کروڑہا انسانوں کو جہنم کی آگ کا ایندھن بنا دیا تو کیا اب بھی یہ شوق باقی ہے کہ انسانی عادت کے برخلاف عیسی آسمان سے اُترے فرشتے بھی ساتھ ہوں اور اپنے منہ کی پھونک سے لوگوں کو ہلاک کرے اور موتیوں کی طرح قطرے اُس کے بدن سے ٹپکتے ہوں ۔ غرض مسیح موعود کے بدن سے موتیوں کی طرح قطرے لیکنے کے معنے جو میں نے لکھے ہیں وہ صحیح ہیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھوں میں سونے کے کڑے دیکھے تھے تو کیا اس سے کڑے ہی مراد تھے؟ ایسا ہی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے گائیاں ذبح ہوتے دیکھیں تو کیا اس سے گائیاں ہی مراد تھیں؟ ہر گز نہیں بلکہ ان کے اور معانی تھے۔ پس اسی طرح مسیح موعود کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا اس رنگ میں دیکھنا کہ گویا وہ غسل کر کے آتا ہے اور غسل کے قطرے موتیوں کی طرح اس کے سر پر سے ٹپکتے ہیں اس کے یہی معنی ہیں کہ وہ بہت تو بہ کرنے والا اور رجوع کرنے والا ہوگا اور ہمیشہ اُس کا تعلق خدا تعالیٰ سے تازہ بتازہ رہے گا گویا وہ ہر وقت غسل کرتا ہے اور پاک رجوع کے پاک قطرے موتیوں کے دانوں کی طرح اُس کے سر پر سے ٹپکتے ہیں۔ ایک دوسری حدیث میں بھی خدا تعالیٰ کی طرف رجوع کرنے کو غسل سے مشابہت دی ہے جیسا کہ نماز کی خوبیوں میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ اگر کسی کے گھر کے دروازے کے آگے نہر ہو اور وہ پانچ وقت اُس نہر میں غسل کرے تو کیا اُس کے بدن پر میل رہ سکتی ہے صحابہ نے عرض کیا کہ نہیں ۔ تب آپ نے فرمایا کہ اسی طرح جو شخص پانچ وقت نماز پڑھتا ہے ( جو جامع تو بہ اور استغفار اور دعا اور تضرع اور نیاز اور تحمید اور تسبیح ہے ) اُس کے نفس پر بھی گناہوں کی میل نہیں رہ سکتی گویا وہ پانچ وقت غسل کرتا ہے۔ اس حدیث سے ظاہر ہے کہ مسیح موعود کے غسل کے بھی یہی معنے ہیں ورنہ جسمانی غسل میں کونسی کوئی خاص خوبی ہے۔ اس طرح تو ہندو بھی ہر روز صبح کو فسل کرتے ہیں اور غسل کے قطرے بھی ٹیکتے ہیں۔ افسوس کہ جسمانی خیال کے آدمی ہر ایک روحانی امر کو جسمانی امور کی طرف ہی کھینچ کر لے جاتے ہیں اور یہود کی طرح