حقیقةُ الوحی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 314 of 830

حقیقةُ الوحی — Page 314

روحانی خزائن جلد ۲۲ ۳۱۴ حقيقة الوحى ۱۳۱۔ نشان۔ ناظرین میرے اس رسالہ میں پڑھیں گے کہ ایک دفعہ میں نے بسمبر داس برادر شرمپت کھتری کے بارہ میں ایک پیشگوئی کی تھی کہ وہ اس مقدمہ فوجداری سے جو اُس پر بنا تھائری تو نہیں ہو گا مگر نصف قید رہ جائے گی۔ بعد اس کے ایسا اتفاق ہوا کہ جب بسمبر داس (۳۰۱) نصف قید بھگت کر رہا ہو گیا جیسا کہ پہلے سے پیشگوئی میں بتلایا گیا تھا تو اس کے وارثوں نے خلاف واقعہ طور پر یہ مشہور کر دیا کہ بسمبر اس بری ہو گیا۔ رات کا وقت تھا اور میں اپنی بڑی مسجد میں نماز پڑھنے کے لئے گیا تھا جب ایک شخص علی محمد نام ملا ساکن قادیان نے مسجد میں آکر یہ بیان کیا کہ بسمبر داس بُری ہو گیا ہے اور بازار میں اُس کو مبارکبادیاں مل رہی ہیں تو مجھے یہ خبر سنتے ہی بہت صدمہ پہنچا اور دل میں بیقراری پیدا ہوئی کہ متعصب ہندو اس بات پر حملہ کریں گے کہ تم نے تو یہ خبر دی تھی کہ بسمبر داس بُری نہیں ہو گا اب دیکھو وہ تو بری ہو گیا۔ مجھے اس غم سے ایک ایک رکعت نماز کی ایک ایک سال کے برابر ہوگئی اور جب میں نماز میں کسی رکعت کے بعد سجدہ میں گیا تو اُس وقت میرا اضطرار نہایت تک پہنچ گیا تھا۔ تب سجدہ کی حالت میں ہی بلند آواز سے خدا نے مجھے مخاطب کر کے فرمایا لا تخف ۔ انک انت الاعلی یعنی کچھ خوف مت کر تو ہی غالب ہے۔ پھر میں منتظر رہا کہ یہ پیشگوئی کس طرح پوری ہوگی مگر کوئی نشان ظاہر نہ ہوا میں بار بار اسی شرمیت سے پوچھتا تھا کہ کیا یہ سچ ہے کہ بسمبر داس بُری ہو گیا ؟ تو وہ یہی جواب دیتا تھا کہ وہ در حقیقت بری ہو گیا ہے مجھے جھوٹ بولنے کی کیا ضرورت تھی اور اس گاؤں میں جس سے میں دریافت کرتا وہ یہی کہتا تھا کہ ہم نے بھی سنا ہے کہ وہ کمر کی ہو گیا ہے اسی طرح قریباً چھ ماہ گزر گئے یا کچھ کم و بیش اور شریر لوگ ٹھٹھا اور جنسی کرتے تھے جیسا کہ اُن کی قدیم سے عادت ہے مگر شرمیت نے کوئی ٹھٹھا اور جنسی نہیں کی جس سے مجھے یقین ہوا کہ اب تو اُس نے شرافت کا برتاؤ مجھ سے کیا ہے مگر پھر بھی میں اُس کے رو برو نادم ہوتا تھا کہ اس قدر تاکید سے میں نے اُس کو اُس کے بھائی کے بُری نہ ہونے کی خبر دی تھی اور اب یہ صورت پیش آئی