حقیقةُ الوحی — Page 310
روحانی خزائن جلد ۲۲ ۳۱۰ حقيقة الوحى یہ الفاظ تھے ” پہلے بنگالہ کی نسبت جو کچھ حکم جاری کیا گیا تھا اب ان کی دلجوئی ہوگی ۔‘ اس کی تفصیل یہ ہے کہ جیسا کہ سب کو معلوم ہے گورنمنٹ نے تقسیم بنگالہ کی نسبت حکم نافذ کیا تھا اور یہ حکم بنگالیوں کی دل شکنی کا باعث اس قدر ہوا تھا کہ گویا اُن کے گھروں میں ماتم پڑ گیا (۲۹۷ تھا اور انہوں نے تقسیم بنگالہ کے رک جانے کی نسبت بہت کوشش کی مگر ناکام رہے بلکہ برخلاف اس کے یہ نتیجہ ہوا کہ اُن کا شور و غوغا گورنمنٹ کے افسروں نے پسند نہ کیا اور اُن کی نسبت ان افسروں کی طرف سے جو کچھ کا رروائیاں ہوئیں ہمیں اس جگہ اُس کی تفصیل کی بھی ضرورت نہیں۔ خاص کر فکر لفٹنٹ گورنر کو انہوں نے اپنے لئے ملک الموت سمجھا اور ایسا اتفاق ہوا کہ ان ایام میں کہ بنگالی لوگ اپنے افسروں کے ہاتھ سے دکھ اُٹھا رہے تھے۔ اور سرفکر کے انتظام سے جاں بلب تھے مجھے مذکورہ بالا الہام ہوا یعنی یہ کہ پہلے بنگالہ کی نسبت جو کچھ حکم جاری کیا گیا تھا اب ان کی دلجوئی ہوگی چنانچہ میں نے اس پیشگوئی کو انہیں دنوں میں شائع کر دیا۔ سو یہ پیشگوئی اس طرح پر پوری ہوئی کہ بنگالہ کا لفٹنٹ گورنر فلر صاحب جس کے ہاتھ سے بنگالی لوگ تنگ آگئے تھے اور اس قدرشا کی تھے کہ اُن کی آہیں آسمان تک پہنچ گئی تھیں ایک دفعہ مستعفی ہو گیا وہ کا غذات شائع نہیں کئے گئے جن کی وجہ سے استعفا دیا گیا مگر فکر صاحب کے استعفیٰ پر جس قدر خوشی کا اظہار بنگالیوں نے کیا ہے جیسا کہ بنگالی اخباروں سے ظاہر ہے وہ سب سے بڑھ کر گواہ اس بات پر ہے کہ بنگالیوں نے فلر کی علیحدگی میں اپنی دلجوئی محسوس کی ہے اور فلر کے استعفا دینے سے اُن کے خوشی کے جلسے اور عام طور پر خوشی کے نعرے اس بات کی شہادت دے رہے ہیں کہ در حقیقت فکر کی علیحدگی سے اُن کی دلجوئی ہوئی ہے بلکہ پورے طور پر دلجوئی ہوگئی ہے اور یہ کہ انہوں نے فکر کی علیحدگی کو اپنے لئے گورنمنٹ کا بڑا احسان سمجھا ہے پس فکر کے استعفا میں جس غرض کو کہ گورنمنٹ نے اپنی کسی مصلحت سے پوشیدہ کیا ہے وہ غرض بنگالیوں کی بے حد خوشیوں سے ظاہر ہو رہی ہے اور اس سے بڑھ کر پیشگوئی کے پورا ہونے کا اور کیا ثبوت ہوگا کہ بنگالیوں