حقیقةُ الوحی — Page 293
روحانی خزائن جلد ۲۲ ۲۹۳ حقيقة الوح جو آر یہ ہیں سنا دی اور اُن کو کہہ دیا کہ یا درکھو کہ یہ روپیہ ڈاک کے ذریعہ سے آئے گا اور دس دن تک ڈاک کے ذریعہ سے کچھ بھی نہیں آئے گا۔ اور علاوہ ان ہندوؤں کے اور بہت سے مسلمانوں کو یہ پیشگوئی قبل از وقت سنادی اور خوب مشہور کر دی کیونکہ اس پیشگوئی میں دو پہلو بہت عجیب تھے۔ ایک یہ کہ قطعی طور پر حکم دیا گیا تھا کہ دس دن تک کچھ نہیں آئے گا اور گیارھویں دن بلا توقف اور بلا فاصلہ روپیہ آئے گا۔ دوسرا پہلو یہ عجیب تھا کہ روپیہ آنے کے ساتھ ہی کچھ ایسا اتفاق پیش آجائے گا کہ تمہیں امرتسر جانا پڑے گا۔ پس یہ عجیب نمونہ قدرت الہی ظاہر ہوا کہ الہام کے دن سے دس دن تک ایک پیسہ بھی نہ آیا اور مذکورہ بالا آریان ہر روز ڈاک خانہ میں جا کر تفتیش کرتے رہے اور اُن دنوں میں ڈاک خانہ کا سب پوسٹ ماسٹر بھی ہندو تھا۔ جب گیارھواں دن چڑھا تو ان آریوں کے لئے ایک عجیب تماشے کا دن تھا اور وہ بہت خوشی سے اس بات کے اُمیدوار تھے کہ یہ پیشگوئی جھوٹی نکلے تب بعض ان میں سے ڈاک خانہ میں گئے اور غمگین صورت بنا کر واپس آئے اور بیان کیا کہ آج محمد افضل خان نام ایک سپر نٹنڈنٹ باست بند و بست راولپنڈی نے ایک سو دس روپیہ بھیجے ہیں اور ایسا ہی ایک شخص نے عنہ روپیہ بھیجے غرض اُس دن ایک سو تیس روپے آئے جن سے وہ کام پورا ہو گیا جس کے لئے ضرورت تھی اور اُسی دن جبکہ یہ روپیہ آیا عدالت خفیفہ امرتسر سے ایک شہادت کے ادا کرنے کے لئے میرے نام سمن آ گیا اور جیسا کہ میں نے بیان کیا اس پیشگوئی کے پورے ہونے کی ایک جماعت گواہ ۲۸۱ ہے اور اس کی اس طرح پر بھی تصدیق ہو سکتی ہے کہ قادیان کے ڈاک خانہ کا رجسٹر دیکھا جائے ایت تو جس دن یہ ایک سو تیس روپے آئے ہیں اُس دن سے دس دن پہلے کی تاریخوں میں رجسٹر میں ایک پیسے کا منی آرڈر بھی میرے نام نہیں پاؤ گے اور پھر اگر اسی تاریخ عدالت خفیفہ امرتسر کے دفتر میں تلاش کرو گے تو اس میں ایک شخص پادری رجب علی نام کے مقدمہ میں میرا اظہار شامل مثل پاؤ گے اور یہ ۱۸۸۴ء کا نشان ہے۔ اسی پستہ سے ڈاک خانہ کا رجسٹر ملاحظہ ہوسکتا ہے اور اسی پتہ سے عدالت خفیفہ امرتسر میں میرے اظہار کا پتہ لگ سکتا ہے اور اگر ہندو گواہ