حقیقةُ الوحی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 285 of 830

حقیقةُ الوحی — Page 285

روحانی خزائن جلد ۲۲ ۲۸۵ حقيقة الوحى بذریعہ اپنے مختار کے مد عاعلیھم میں اپنا نام بھی لکھوادیا تھا جس سے مطلب یہ تھا کہ ہم دونوں قابض ہیں۔ اور وہ کا غذات کسی اتفاق سے تلف ہو گئے تھے اور صرف امام الدین کا نام مدعی کے عرضی دعوے پر باقی رہ گیا تھا جس سے یہ سمجھا جاتا تھا کہ قابض زمین صرف امام الدین ہے سو یہی مخفی راز تھا جو نہیں معلوم نہ تھا اور جب خدا تعالیٰ نے چاہا تو انڈکس کی مدد سے وہ مخفی حقیقت ظاہر ہوگئی اور جیسا کہ پیشگوئی میں ہے ایک دم میں چکی پھر گئی۔ ظاہر ہے کہ چکی کی روش سے جو حصہ چکی کا آنکھ سے پوشیدہ ہوتا ہے وہ آنکھ کے سامنے آجاتا ہے اور جو (۲۷۳) سامنے ہوتا ہے وہ پوشیدہ ہو جاتا ہے۔ پس یہی حال اس مقدمہ کا ہوا یعنی جو وجوہات قبل اس سے حاکم کی نظر کے سامنے تھے یعنی یہ کہ غلام جیلانی مدعی نے اپنے عرضی دعوے میں صرف امام الدین کو قابض ظاہر کیا ہے انڈکس پیدا ہونے سے ایک دفعہ یہ وجوہات ناپید ہو گئے اور چکی کی پوشیدہ طرف کی طرح نئے وجوہات نظر کے سامنے آگئے اور جس پوشیدہ امر کے لئے اس پیشگوئی میں خدا تعالیٰ نے وعدہ کیا تھا کہ آخر کار میں ظاہر کر دوں گا وہ ظاہر ہو گیا۔ بات یہ ہے کہ غلام جیلانی کی نالش کا مقدمہ ایک پرانے زمانہ کا تھا جس پر قریباً چالیس برس کے گذر گئے تھے اور وہ مقدمہ میرے والد صاحب کے وقت کا تھا مجھ کو اس سے کچھ اطلاع نہ تھی اور چونکہ مدعی کے عرضی دعوے میں صرف امام الدین کا نام مدعا علیہ لکھا گیا تھا اور باقی کا غذات تلف ہو چکے تھے اور تمہیں برس گذر گئے تھے جبکہ میرے والد صاحب اور نیز بعد اُن کے میرے بڑے بھائی بھی فوت ہو چکے تھے اس لئے ان پوشیدہ باتوں کی مجھ کو کچھ خبر نہ تھی۔ اب سوچنا چاہیے کہ یہ کس قدر عظیم الشان پیشگوئی ہے جو نصرت الہی سے خمیر کی گئی ہے اب جو شخص ایسی پیشگوئیوں کی بھی تکذیب کرے گا تو ہمیں اُس کے اسلام کی کچھ خیر نظر نہیں آتی افسوس کہ یہ لوگ خدا تعالیٰ کی نصرت کی بھی قدر نہیں کرتے ۔ ایک وہ زمانہ تھا کہ پادری لوگ محض اپنے تعصب سے یہ بکواس کرتے تھے کہ قرآن شریف میں کوئی پیشگوئی نہیں