حقیقةُ الوحی — Page 284
روحانی خزائن جلد ۲۲ ۲۸۴ حقيقة الوح کمال الدین کو خیال آیا کہ پرانی مثل کا انڈیکس دیکھنا چاہیے یعنی ضمیمہ جس میں ضروری احکام کا خلاصہ ہوتا ہے جب وہ دیکھا گیا تو اس میں وہ بات نکلی جس کے نکلنے کی توقع نہ تھی یعنی حاکم کا تصدیق شدہ یہ حکم نکلا کہ اس زمین پر قابض نہ صرف امام الدین ہے بلکہ میرزا غلام مرتضی یعنی میرے والد صاحب بھی قابض ہیں ۔ تب یہ دیکھنے سے میرے وکیل نے سمجھ لیا کہ ہمارا مقدمہ فتح ہو گیا۔ حاکم کے پاس یہ بیان کیا گیا اُس نے فی الفور وہ انڈیکس طلب کیا اور چونکہ دیکھتے ہی اُس پر حقیقت کھل گئی اس لئے اُس نے بلا تو قف امام الدین پر ۲۲ ڈگری زمین کی بمعہ خرچہ کر دی۔ اگر وہ کاغذ پیش نہ ہوتا تو حاکم مجوز بجز اس کے کیا کر سکتا تھا کہ مقدمہ کو خارج کرتا اور دشمن بدخواہ کے ہاتھ سے ہمیں تکلیفیں اٹھانی پڑتیں۔ یہ خدا کے کام ہیں وہ جو چاہتا ہے کرتا ہے۔ اور یہ پیشگوئی در حقیقت ایک پیشگوئی نہیں بلکہ دو پیشگوئیاں ہیں کیونکہ ایک تو اس میں فتح کا وعدہ ہے اور دوسرے ایک امر خفی کے ظاہر کرنے کا وعدہ ہے جو سب کی نظر سے پوشیدہ تھا اور ہم اس جگہ بہت خوشی اور خدا کے شکر کے ساتھ کہتے ہیں کہ اس پیشگوئی کی سچائی کا گواہ حاکم مجوز مقدمہ بھی خدا کی قضا و قدر نے کر دیا ہے جس شہادت سے وہ اپنے تئیں علیحدہ نہیں کر سکتا گو ہمارا مذہبی مخالف ہے یعنی شیخ خدا بخش ڈسٹرکٹ حج ۔ کیونکہ وہ گواہی دے سکتا ہے کہ ہمارے وکیل نے باوجود کئی پیشیوں کے اس قوی حجت کو پیش نہیں کیا صرف مقدمہ کے آخری مرحلہ پر محض خدا تعالیٰ کے فضل سے یہ عقدہ کھلا چنا نچہ ہر ایک شخص جو شیخ خدا بخش کے فیصلہ کو دیکھے گا اُس پر فی الفور ظاہر ہو جائے گا کہ مدت تک ہمارا پلیڈر محض سماعی شہادتوں سے کام لیتا رہا جو ایک جوڈیشنل فیصلہ کے مقابل پر بیچی تھیں کیونکہ امام الدین مد عاعلیہ نے جس مثل کو اپنے مخصوص قبضہ ثابت کرنے کے لئے پیش کیا تھا اُس میں تو صرف امام الدین کا نام تھا میرے والد صاحب کا نام نہ تھا اس میں بھید یہ تھا کہ غلام جیلانی اصل مالک زمین نے امام الدین پر ہی نالش کی تھی اور اُس کی عرضی پر مدعا علیہ صرف امام الدین ہی لکھا گیا تھا اور پھر اطلاع پانے کے بعد میرے والد صاحب نے