حقیقةُ الوحی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 279 of 830

حقیقةُ الوحی — Page 279

روحانی خزائن جلد ۲۲ ۲۷۹ حقيقة الوحى امام الدین کو اس زمین کا قابض خیال کر کے گورداسپور میں بصیغہ دیوانی نالش کی تھی اور بوجہ ثبوت مخالفانہ قبضہ کے وہ نالش خارج ہو گئی تھی تب سے امام الدین کا اس پر قبضہ چلا آتا ہے اب اسی زمین پر امام الدین نے دیوار کھینچ دی ہے کہ یہ میری زمین ہے۔ غرض نالش کے بعد ایک پرانی مثل کے ملاحظہ سے یہ ایسا عقدہ لا ینحل ہمارے لئے پیش آ گیا تھا جس سے صریح معلوم ہوتا تھا کہ ہمارا دعویٰی خارج کیا جائے گا کیونکہ جیسا کہ میں نے ذکر کیا ہے ایک پرانی مثل سے یہی ثابت ہوتا تھا کہ اس زمین پر قبضہ امام الدین کا ہے اُس سخت مشکل کو دیکھ کر ۲۶۷ ہمارے وکیل خواجہ کمال الدین نے ہمیں یہ بھی صلاح دی تھی کہ بہتر ہو گا کہ اس مقدمہ میں صلح کی جائے یعنی امام الدین کو بطور خود کچھ روپیہ دے کر راضی کر لیا جائے لہذا میں نے مجبوراً اس تجویز کو پسند کر لیا تھا مگر وہ ایسا انسان نہیں تھا جو راضی ہوتا۔ اُس کو مجھ سے بلکہ دین اسلام سے ایک ذاتی بغض تھا اور اُس کو پتہ لگ گیا تھا کہ مقدمہ چلانے کا ان پر قطعاً دروازہ بند ہے لہذا وہ اپنی شوخی میں اور بھی بڑھ گیا آخر ہم نے اس بات کو خدا تعالیٰ پر چھوڑ دیا مگر جہاں تک ہم نے اور ہمارے وکیل نے سوچا کوئی بھی صورت کامیابی کی نہیں تھی کیونکہ پرانی مثل سے امام الدین کا ہی قبضہ ثابت ہوتا تھا اور امام الدین کی یہاں تک بدنیت تھی کہ ہمارے گھر کے آگے جو صحن تھا جس میں آکر ہماری جماعت کے یکے ٹھہرتے تھے وہاں ہر وقت مزاحمت کرتا اور گالیاں نکالتا تھا اور نہ صرف اسی قدر بلکہ اُس نے یہ بھی ارادہ کیا تھا کہ ہمارا مقدمہ خارج ہونے کے بعد ایک لمبی دیوار ہمارے گھر کے دروازوں کے آگے کھینچ دے تا ہم قیدیوں کی طرح محاصرہ میں آجائیں اور گھر سے باہر نکل نہ سکیں اور نہ باہر جاسکیں ۔ یہ دن بڑی تشویش کے تھے یہاں تک کہ ہم ضَاقَتْ عَلَيْهِمُ الْاَرْضُ بِمَا رَحُبَتْ کا مصداق ہو گئے اور بیٹھے بیٹھے ایک مصیبت پیش آگئی اس لئے جناب الہی میں دعا کی گئی اور اُس سے مدد مانگی گئی ۔ تب بعد دعا مندرجہ ذیل الہام ہوا اور یہ الہام علیحدہ علیحدہ وقت کے نہیں بلکہ ایک ہی دفعہ ایک ہی وقت میں ہوا ۔ مجھے یاد ہے کہ اُس وقت سید فضل شاہ صاحب لا ہوری برا در سید ناصر شاہ صاحب اور سیر متعین بارہ مولہ کشمیر میرے پیر دبا رہا تھا اور التوبة : ١١٨