حقیقةُ الوحی — Page 278
روحانی خزائن جلد ۲۲ ۲۷۸ حقيقة الوح ۲۲۲ میں چھوڑ دے سو میں نے یہ الہام اپنی اس جماعت کو جو گورداسپور میں میرے ہمراہ تھی جو چالیس آدمی سے کم نہیں ہوں گے سنا دیا جن میں مولوی محمد علی صاحب ایم اے اور خواجہ کمال الدین صاحب بی اے پلیڈر بھی تھے پھر بعد اس کے جب ہم کچہری میں گئے تو فریق ثانی کے وکیل نے مجھ سے یہی سوال کیا کہ کیا آپ کی شان اور آپ کا مرتبہ ایسا ہے جیسا کہ تریاق القلو مجھے کتاب میں لکھا ہے۔ میں نے جواب دیا کہ ہاں خدا کے فضل سے یہی مرتبہ ہے۔ اُس نے یہ مرتبہ مجھے عطا کیا ہے۔ تب وہ الہام جو خدا کی طرف سے صبح کے وقت ہوا تھا قریباً عصر کے وقت پورا ہو گیا اور ہماری تمام جماعت کے زیادت ایمان کا موجب ہوا ۔ ۱۱۹۔ نشان شا ء میں ایسا اتفاق ہوا کہ میرے چچازاد بھائیوں میں سے امام الدین نام ایک سخت مخالف تھا اُس نے یہ ایک فتنہ برپا کیا کہ ہمارے گھر کے آگے ایک دیوار کھینچ دی اور ایسے موقعہ پر دیوار کھینچی کہ مسجد میں آنے جانے کا راستہ رک گیا اور جو مہمان میری نشست کی جگہ پر میرے پاس آتے تھے یا مسجد میں آتے تھے وہ بھی آنے سے رک گئے اور مجھے اور میری جماعت کو سخت تکلیف پہنچی گویا ہم محاصرہ میں آگئے ۔ نا چار دیوانی میں منشی خدا بخش صاحب ڈسٹرکٹ حج کے محکمہ میں نالش کی گئی جب نالش ہو چکی تو بعد میں معلوم ہوا کہ یہ مقدمہ نا قابل فتح ہے اور اس میں یہ مشکلات ہیں کہ جس زمین پر دیوار کھینچی گئی ہے اُس کی نسبت کسی پہلے وقت کی مثل کے رو سے ثابت ہوتا ہے کہ مدعا علیہ یعنی امام الدین قدیم سے اس کا قابض ہے اور یہ زمین دراصل کسی اور شریک کی تھی جس کا نام غلام جیلانی تھا اور اُس کے قبضہ میں سے نکل گئی تھی تب اُس نے ا یہ سہواً لکھا گیا ہے مرا د تحفہ گولڑو یہ ہے کیونکہ حضرت اقدس سے سوال تحفہ گولڑویہ کے متعلق کیا گیا تھا۔ ہمارے پاس مسل مقدمه حکیم فضل دین بنام مولوی ابو الفضل محمد کرم الدین دبیر ولد نا معلوم سکنہ موضع بھیں تحصیل چکوال ضلع جہلم کی مصدقہ نقل موجود ہے اس میں یہ الفاظ درج ہیں۔ تحفہ گولڑو یہ میری تصنیف ہے۔ یکم ستمبر ۱۹۰۲ء کو شائع ہوا ۔ پیر مہر علی کے مقابلہ پر لکھی ہے۔ یہ کتاب سیف چشتیائی کے جواب میں نہیں لکھی گئی ۔ سوال ۔ جن لوگوں کا ذکر صفحہ ۴۸ لغایت ۵۰ اس کتاب میں لکھا ہے آپ ہی اس کا مصداق ہیں ۔ جواب ۔ خدا کے فضل اور رحمت سے میں اس کا مصداق ہوں۔“ (ناشر)