حقیقةُ الوحی — Page 270
روحانی خزائن جلد ۲۲ ۲۷۰ حقيقة الو۔ ۲۵۸) النصرف عنه السوء والفحشاء ولتنذر قومًا ما انذر اباء هم فهم غافلون۔ دیکھو براہین احمدیہ صفحہ ۵۵۵ ( ترجمہ ) اور اسی طرح ہم نے اپنے نشانوں کے ساتھ اس یوسف پر احسان کیا تا کہ جو بدی اور عیب اُس کی طرف منسوب کئے جائیں گے اُن سے ہم اس کو بچالیں اور تا کہ تو اُن نشانوں کی عظمت کی وجہ سے اس لائق ہو کہ غافلوں کو ڈراوے کیونکہ در حقیقت انہیں لوگوں کا وعظ دلوں پر اثر کرتا ہے جن کو خدا اپنی طرف سے عظمت اور امتیاز بخشتا ہے۔ اس جگہ خدا تعالیٰ نے میرا نام یوسف رکھا اور یہ ایک پیشگوئی ہے جس کا یہ مطلب ہے کہ جس طرح یوسف کے بھائیوں نے اپنی جہالت سے یوسف کو بہت دکھ دیا تھا اور اس کے ہلاک کرنے میں کسر نہیں رکھی تھی خدا فرماتا ہے کہ اس جگہ بھی ایسا ہی ہوگا اور اشارہ فرماتا ہے کہ یہ لوگ بھی جو قومی اخوت رکھتے ہیں ہلاک اور تباہ کرنے کے لئے بڑے بڑے فریب کریں گے مگر آخر کار وہ نا مراد ر ہیں گے اور خدا اُن پر کھول دے گا کہ جس شخص کو تم نے ذلیل کرنا چاہا تھا میں نے اُس کو عزت کا تاج پہنایا۔ تب بہتوں پر کھل جائے گا کہ ہم غلطی پر تھے جیسا کہ وہ ایک دوسرے الہام میں فرماتا ہے: يخرّون على الاذقان سجّدًا ۔ ربنا اغفر لنا انا كنا خاطئين۔ تَاللَّهِ لَقَدْ اشرك الله علينا وان كنا لخاطئين۔ لا تثريب عليكم اليوم۔ يغفر الله لكم۔ وهو ارحم الراحمین ۔ یعنی وہ لوگ اپنی ٹھوڑیوں پر سجدہ کرتے ہوئے اور یہ کہتے ہوئے گریں گے کہ اے ہمارے خدا ہمیں بخش ہم خطاہر تھے ۔ اور تجھے مخاطب کر کے کہیں گے کہ بخدا خدا نے ہم سب میں سے تجھے چن لیا اور ہم خطاہر تھے ۔ تب خدار جوع کرنے والوں کو کہے گا کہ آج تم پر کوئی سرزنش نہیں کیونکہ تم ایمان لائے۔ خدا تمہیں تمہاری پہلی لغزشیں بخش دے گا کہ وہ ارحم الراحمین ہے ۔ غرض اس پیشگوئی میں دو مرغیب کا بیان ہے (۱) اوّل یہ کہ آئندہ زمانہ میں قوم میں سخت مخالف پیدا ہو جائیں گے اور حسد کا شعلہ ایسا اُن میں جوش مارے گا جیسا کہ یوسف کے بھائیوں میں جوش مارا تھا تب وہ سخت دشمن بن جائیں گے اور تباہ اور ہلاک کرنے کے لئے طرح طرح کے