حقیقةُ الوحی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 263 of 830

حقیقةُ الوحی — Page 263

روحانی خزائن جلد ۲۲ ۲۶۳ حقيقة الوح ہو سکتا اُن لوگوں کے مقابل پر اپنی طاقت اور قوت دکھلاوے اور اپنی قدرت کا نشان ظاہر کرے چنانچہ اُس نے ایسا ہی کیا ۔ کون جانتا تھا اور کس کے علم میں یہ بات تھی کہ جب میں ایک چھوٹے سے بیج کی طرح بویا گیا اور بعد اس کے ہزاروں پیروں کے نیچے کچلا گیا۔ اور آندھیاں چلیں اور طوفان آئے اور ایک سیلاب کی طرح شور بغاوت میرے اس چھوٹے سے تم پر پھر گیا پھر بھی میں ان صدمات سے بچ جاؤں گا سو وہ تم خدا کے فضل سے ضائع نہ ہوا بلکہ بڑھا اور پھولا اور آج وہ ایک بڑا درخت ہے جس کے سایہ کے نیچے تین لاکھ انسان آرام کر رہا ہے یہ خدائی کام ہیں جن کے ادراک سے انسانی طاقتیں عاجز ہیں۔ وہ کسی سے مغلوب نہیں ہوسکتا۔ اے لوگو! کبھی تو خدا سے شرم کرو! کیا اس کی نظیر کسی مفتری کی سوانح میں پیش کر سکتے ہو؟ اگر یہ کاروبار انسان کا ہوتا تو کچھ بھی ضرورت نہ تھی کہ تم مخالفت کرتے اور میرے ہلاک کرنے کے لئے اس قدر تکلیف اُٹھاتے بلکہ میرے مارنے کے لئے خدا ہی کافی تھا جب ملک میں طاعون پھیلی تو کئی لوگوں نے دعوی کر کے کہا کہ یہ شخص طاعون سے ہلاک کیا جائے گا مگر عجیب قدرت حق ہے کہ وہ سب لوگ آپ ہی طاعون سے ہلاک ہو گئے اور خدا نے مجھے مخاطب کر کے فرمایا کہ میں تیری حفاظت کروں گا اور طاعون تیرے نزدیک نہیں آئے گی بلکہ یہ بھی مجھے فرمایا کہ میں لوگوں کو یہ کہوں کہ آگ سے (یعنی طاعون سے ) (۲۵۲) ہمیں مت ڈراؤ آگ ہماری غلام بلکہ غلاموں کی غلام ہے اور نیز مجھے فرمایا کہ میں اس تیرے گھر کی حفاظت کروں گا اور ہر ایک جو اس چار دیوار کے اندر ہے وہ طاعون سے بیچا رہے گا چنانچہ ایسا ہی ہوا اس نواح میں سب کو معلوم ہے کہ طاعون کے حملہ سے گاؤں کے گاؤں ہلاک ہو گئے اور ہمارے ارد گر د قیامت کا نمونہ رہا مگر خدا نے ہمیں محفوظ رکھا۔ ۱۰۱۔ ایک سو ایک نشان۔ جب میں ۱۹۰۴ء میں کرم دین کے فوجداری مقدمہ کی وجہ سے جہلم میں جارہا تھا تو راہ میں مجھے الہام ہوا اُریک بـر کـات مـن كلّ طرف یعنی میں ہر ایک پہلو سے تجھے برکتیں دکھلاؤں گا۔ اور یہ الہام اُسی وقت تمام جماعت کو سنا دیا گیا بلکہ