حقیقةُ الوحی — Page 262
روحانی خزائن جلد ۲۲ ۲۶۲ حقيقة الوح نہیں تھا جن کا کسی وجاہت کی وجہ سے دنیا میں ذکر کیا جاتا ہے۔ غرض کچھ بھی نہیں تھا اور میں صرف ایک احد من الناس تھا اور محض گمنام تھا اور ایک فرد بھی میرے ساتھ تعلق نہیں رکھتا تھا مگر شاذ و نادر ایسے چند آدمی جو میرے خاندان سے پہلے ہی سے تعارف رکھتے تھے۔ اور یہ وہ واقعہ ہے کہ قادیان کے رہنے والوں میں سے کوئی بھی اس کے برخلاف شہادت نہیں دے سکتا۔ بعد اس کے خدا تعالیٰ نے اس پیشگوئی کے پورا کرنے کے لئے اپنے بندوں کو میری طرف رجوع دلایا اور فوج در فوج لوگ قادیان میں آئے اور آ رہے ہیں اور نقد اور جنس اور ہر ایک قسم کے تحائف اس کثرت سے لوگوں نے دیئے اور دے رہے ہیں جن کا میں شمار نہیں کر سکتا اور ہر چند مولویوں کی طرف سے روکیں ہوئیں اور انہوں نے ناخنوں تک زور لگایا که رجوع خلائق نہ ہو یہاں تک کہ مکہ تک بھی فتوے منگوائے گئے اور قریباً دو ستو مولویوں نے میرے پر کفر کے فتوے دئے بلکہ واجب القتل ہونے کے بھی فتوے شائع کئے گئے لیکن وہ اپنی تمام کوششوں میں نامراد رہے اور انجام یہ ہوا کہ میری جماعت پنجاب کے تمام شہروں اور دیہات میں پھیل گئی اور ہندوستان میں بھی جا بجای تخم ریزی ہوگئی بلکہ یورپ اور امریکہ کے بعض انگریز بھی مشرف باسلام ہو کر اس جماعت میں داخل ہوئے اور اس قدر ۲۵۱ فوج در فوج قادیان میں لوگ آئے کہ میکوں کی کثرت سے کئی جگہ سے قادیان کی سڑک ٹوٹ گئی اس پیشگوئی کو خوب سوچنا چاہیے اور خوب غور سے سوچنا چاہیے کہ اگر یہ خدا کی طرف سے پیشگوئی نہ ہوتی تو یہ طوفان مخالفت جو اُٹھا تھا اور تمام پنجاب اور ہندوستان کے لوگ مجھ سے ایسے بگڑ گئے تھے جو مجھے پیروں کے نیچے کچلنا چاہتے تھے ضرور تھا کہ وہ لوگ اپنی جان توڑ کوششوں میں کامیاب ہو جاتے اور مجھے تباہ کر دیتے لیکن وہ سب کے سب نا مرا در ہے اور میں جانتا ہوں کہ اُن کا اس قدرشور اور میرے تباہ کرنے کے لئے اس قدر کوشش اور یہ پُر زور طوفان جو میری مخالفت میں پیدا ہوا یہ اس لئے نہیں تھا کہ خدا نے میرے تباہ کرنے کا ارادہ کیا تھا بلکہ اس لئے تھا کہ تا خدا تعالیٰ کے نشان ظاہر ہوں اور تا خدائے قادر جو کسی سے مغلوب نہیں