حقیقةُ الوحی — Page 251
روحانی خزائن جلد ۲۲ ۲۵۱ حقيقة الوحى مراد دونوں قسم کے دلائل ہیں جو آپ کو دئے جائیں گے یعنی ایک عقل اور نقل کے دلائل دوسرے خدا تعالیٰ کے تازہ نشانوں کے دلائل۔ سو ان دونوں طریق سے دنیا پر حجت پوری ہوگی اور مخالف لوگ ان دلائل کے سامنے انجام کا رساکت ہو جائیں گے گویا مر جائیں گے۔ اور پھر فرمایا کہ جب میں دنیا میں تھا تو میں اُمیدوار تھا کہ ایسا کوئی انسان پیدا ہو گا یہ الفاظ ہیں جو اُن کے منہ سے نکلے ۔ ولعنة الله على الكاذبين جب وہ زندہ تھے ایک دفعہ مقام خیر دی میں اور دوسری دفعہ مقام امرتسر میں اُن سے میری ملاقات ہوئی میں نے انہیں کہا کہ آپ ملہم ہیں ہمارا ایک مدعا ہے اس کے لئے آپ دعا کرو مگر میں آپ کو نہیں بتلاؤں گا کہ کیا مدعا ہے۔ انہوں نے کہا کہ در پوشیدہ داشتن برکت است و من انشاء اللہ دعا خواهم کرد و الهام امراختیاری نیست۔ اور میرا مدعا یہ تھا کہ دین محمدی علیہ الصلوۃ والسلام روز بروز تنزل میں ہے خدا اُس کا مددگار ہو۔ بعد اس کے میں قادیان میں چلا آیا تھوڑے دنوں کے بعد بذریعہ ڈاک اُن کا خط مجھے ملا جس میں یہ لکھا تھا (۲۴۰) کہ ایں عاجز برائے شما دعا کرده بود القاشد - وَانْصُرنا على القوم الكافرين۔ فقير راكم 66 اتفاق می افتد کہ بدیں جلدی القا شود این از اخلاص شما می بینم ۔“ غرض عبد الحق کے بہت اصرار کے بعد میں نے اُس کی طرف لکھا کہ میں کسی مسلمان کلمہ گو سے مباہلہ کرنا نہیں چاہتا اُس نے جواب میں لکھا کہ جب ہم نے تم پر کفر کا فتویٰ دے دیا تو اب تمہارے نزدیک ہم کا فر ہو گئے تو پھر مباہلہ میں کیا مضائقہ ۔ غرض اس کے سخت اصرار کے بعد میں مباہلہ کے لئے امرتسر میں آیا اور چونکہ مجھے مولوی عبد اللہ صاحب مرحوم سے دلی محبت تھی اور میں اُن کو اپنے اس منصب کے لئے بطور ار ہاص کے سمجھتا تھا یا جیسا کہ یحیی عیسی کے پہلے ظاہر ہوا اس لئے میرے دل نے عبد الحق کے لئے کسی بددعا کو پسند نہیں کیا بلکہ میری نظر میں وہ قابل رحم تھا کیونکہ وہ نہیں جانتا تھا کہ کس کو بُرا کہتا ہے ۔ وہ اپنے خیال میں اسلام کے لئے ایک غیرت دکھلاتا تھا اور نہیں جانتا تھا کہ اسلام کی تائید میں خدا کا کیا ارادہ ہے۔