حقیقةُ الوحی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 250 of 830

حقیقةُ الوحی — Page 250

روحانی خزائن جلد ۲۲ ۲۵۰ حقيقة الوحى نگاہ میں بھی حقیر تھا کیونکہ اُن کی راہیں اور تھیں اور میری راہ اور تھی اور قادیان کے تمام ہندو بھی با وجود سخت مخالفت کے اس گواہی کے دینے کے لئے مجبور ہوں گے کہ میں در حقیقت اُس زمانہ میں ایک گمنامی کی حالت میں بسر کرتا تھا اور کوئی نشان اس بات کا موجود نہ تھا کہ اس قدر ارادت اور محبت اور جانفشانی کا تعلق رکھنے والے میرے ساتھ شامل ہو جائیں گے ۔ اب کہو کہ کیا یہ پیشگوئی کرامت نہیں ہے۔ کیا انسان اس پر قادر ہے اور اگر قادر ہے تو زمانہ حال یا سابق زمانہ میں سے اس کی کوئی نظیر پیش کرو۔ فَإِن لَّمْ تَفْعَلُوا وَلَنْ تَفْعَلُوا فَاتَّقُوا النَّارَ الَّتِي وَقُودُهَا النَّاسُ وَالْحِجَارَةُ أُعِدَّتْ لِلْكَفِرِينَ ۔ ۹۲ - بانواں نشان ۔ وہ مباہلہ ہے جو عبد الحق غزنوی کے ساتھ بمقام امرتسر کیا گیا تھا جس کو آج گیارہ سال گزر گئے ہیں وہ بھی خدا تعالیٰ کا ایک نشان ہے۔ عبد الحق نے مباہلہ کے لئے بہت اصرار کیا تھا اور مجھے اس کے ساتھ مباہلہ کرنے میں تامل تھا کیونکہ جس شخص (۲۳۹) کی شاگردی کی طرف وہ اپنے تئیں منسوب کرتا تھا وہ میرے خیال میں ایک صالح آدمی تھا یعنی مولوی عبد اللہ صاحب مرحوم غزنوی اور اگر میرے زمانہ کو وہ پا تا تو میں یقین کرتا ہوں کہ وہ مجھے میرے دعوے کے ساتھ قبول کرتا اور ر ڈ نہ کرتا مگر وہ مرد صالح میری دعوت سے پہلے ہی وفات پا گیا اور جو کچھ عقیدہ میں غلطی تھی وہ قابل مواخذہ نہیں کیونکہ اجتہادی غلطی معاف ہے ۔ مواخذہ دعوت اور اتمام حجت کے بعد شروع ہوتا ہے ۔ مگر اس میں شک نہیں کہ وہ متقی اور راستباز تھا اور تبتل اور انقطاع اس پر غالب تھا اور عبادصالحین میں سے تھا۔ میں نے اُس کی وفات کے بعد ایک دفعہ اُس کو خواب میں دیکھا اور میں نے اُس کو کہا کہ میں نے خواب میں دیکھا ہے کہ ایک تلوار میرے ہاتھ میں ہے جس کا قبضہ میرے ہاتھ میں اور نوک آسمان میں ہے اور میں یمین و یسار میں اُس تلوار کو چلاتا ہوں اور ہر ایک ضرب سے ہزار ہا مخالف مرتے ہیں اس کی تعبیر کیا ہے ۔ تب انہوں نے کہا کہ یہ اتمام حجت کی تلوار ہے ایسی حجت کہ جو زمین سے آسمان تک پہنچے گی اور کوئی اُس کو روک نہیں سکے گا۔ اور یہ جو دیکھا کہ کبھی دہنی طرف تلوار چلائی جاتی ہے اور کبھی بائیں طرف اس سے البقرة : ۲۵