حقیقةُ الوحی — Page 249
روحانی خزائن جلد ۲۲ ۲۴۹ حقيقة الوحى ہے یعنی ہر حصہ پنجاب اور ہندوستان اور بلا د عرب اور شام اور کابل اور بخارا غرض تمام بلاد اسلامیہ میں پہنچائی گئی ہے اس میں یہ ایک پیشگوئی ہے رب لا تذرني فردا و انت خير الوارثین یعنی خدا کی وحی میں میری طرف سے یہ دعا تھی کہ اے میرے خدا مجھے اکیلا مت چھوڑ جیسا کہ اب میں اکیلا ہوں اور تجھ سے بہتر کون وارث ہے یعنی اگر چہ میں اس وقت اولا د بھی رکھتا ہوں اور والد بھی اور بھائی بھی لیکن روحانی طور پر ابھی میں اکیلا ہی ہوں اور تجھ سے ایسے لوگ چاہتا ہوں جو روحانی طور پر میرے وارث ہوں یہ دعا اس آئندہ امر کے لئے پیشگوئی تھی کہ خدا تعالیٰ روحانی تعلق والوں کی ایک جماعت میرے ساتھ کر دے گا جو میرے ہاتھ پر تو بہ کریں گے سوخدا کا شکر ہے کہ یہ پیشگوئی نہایت صفائی سے پوری ہوئی۔ پنجاب اور ہندوستان سے ہزار ہا سعید لوگوں نے میرے ہاتھ پر بیعت کی ہے اور ایسا ہی سرزمین ریاست امیر کابل سے بہت سے لوگ میری بیعت میں داخل ہوئے ہیں اور میرے لئے یہ عمل کافی ہے کہ ہزارہا آدمیوں نے میرے ہاتھ پر اپنے طرح طرح کے (۲۳۸) گناہوں سے تو بہ کی ہے اور ہزار ہا لوگوں میں بعد بیعت میں نے ایسی تبدیلی پائی ہے کہ جب تک خدا کا ہاتھ کسی کو صاف نہ کرے ہر گز ایسا صاف نہیں ہو سکتا اور میں حلفاً کہہ سکتا ہوں کہ میرے ہزار ہا صادق اور وفا دار مرید بیعت کے بعد ایسی پاک تبدیلی حاصل کر چکے ہیں کہ ایک ایک فرد ان میں بجائے ایک ایک نشان کے ہے اگر چہ یہ درست ہے کہ اُن کی فطرت میں پہلے ہی سے ایک مادہ رُشد اور سعادت کا مخفی تھا مگر وہ کھلے طور پر ظاہر نہیں ہوا جب تک انہوں نے بیعت نہیں کی غرض خدا کی شہادت سے ثابت ہے کہ پہلے میں اکیلا تھا اور میرے ساتھ کوئی جماعت نہ تھی اور اب کوئی مخالف اس بات کو چھپا نہیں سکتا کہ اب ہزار ہا لوگ میرے ساتھ ہیں۔ پس خدا کی پیشگوئیاں اس قسم کی ہوتی ہیں جن کے ساتھ نصرت اور تائید الہی ہوتی ہے۔ کون اس بات میں مجھے جھٹلا سکتا ہے کہ جب یہ پیشگوئی خدا تعالیٰ نے فرمائی اور براہین احمدیہ میں درج کر کے شائع کی گئی اُس وقت جیسا کہ خدا نے فرمایا میں اکیلا تھا اور بجز خدا کے میرے ساتھ کوئی نہ تھا میں اپنے خویشوں کی