حقیقةُ الوحی — Page 247
روحانی خزائن جلد ۲۲ ۲۴۷ حقيقة الوحى پاس کچھی تھی۔ میں نے بے تابی کی حالت میں اُس چار پائی کی پائینتی پراپنا سرکھ دیا اور تھوڑی سی نیند آ گئی ۔ جب میں بیدار ہوا تو درد کا نام ونشان نہ تھا اور زبان پر یہ الہام جاری تھا: اذا مرضت فهو يشفى یعنی جب تو بیمار ہوتا ہے تو وہ تجھے شفا دیتا ہے فالحمد لله علی ذالک ۸۷ ۔ ستاسیواں نشان۔ یہ پیشگوئی ہے کہ میری اس شادی کے بارہ میں جو دہلی میں ہوئی تھی خدا تعالی کی طرف سے مجھے یہ الہام ہوا تھا۔ الحمدلله الذي جعل لكم الصهر والنسب، یعنی اس خدا کو تعریف ہے جس نے تمہیں دامادی اور نسب دونوں طرف سے عزت دی یعنی تمہاری نسب کو بھی شریف بنایا اور تمہاری بیوی بھی سادات میں سے آئے گی۔ یہ الہام شادی کے لئے ایک پیشگوئی تھی جس سے مجھے یہ فکر پیدا ہوا کہ شادی کے اخراجات کو کیوں کر میں انجام دوں گا کہ اس وقت میرے پاس کچھ نہیں اور نیز کیونکر میں ہمیشہ کے لئے اس بوجھ کا متحمل ہو سکوں گا تو میں نے جناب الہی میں دعا کی کہ ان اخراجات کی مجھ میں طاقت نہیں ۔ تب یہ الہام ہوا کہ ہر چه باید نو عروسی را همه سامان کنم و آنچه در کار شما باشد عطائے آں کنم یعنی جو کچھ تمہیں شادی کے لئے درکار ہوگا تمام سامان اس کا میں آپ کروں گا اور جو کچھ تمہیں وقتا فوقتا حاجت ہوتی رہے گی آپ دیتا رہوں گا ۔ چنانچہ ایسا ہی ظہور میں آیا شادی کے لئے جو کسی قدر مجھے روپیہ درکار تھا اُن ضروری اخراجات کے لئے منشی عبدالحق صاحب اکاؤنٹنٹ لاہور نے پانچ سوروپیہ مجھے قرضہ دیا اور ایک اور صاحب حکیم محمد شریف نام ساکن کلانور نے جو امرتسر میں طبابت کرتے تھے دوسور و پیہ یا تین سو روپیہ مجھے بطور قرضہ دیا۔ اُس وقت منشی عبد الحق صاحب اکاؤنٹ نے مجھے کہا کہ ہندوستان میں شادی کرنا ایسا ہے جیسا کہ ہاتھی کو اپنے دروازہ پر باندھنا۔ میں نے اُن کو جواب دیا کہ ان اخراجات کا خدا نے خود وعدہ فرما دیا ہے پھر شادی کرنے کے بعد سلسلہ فتوحات کا شروع ہو گیا اور یا وہ زمانہ تھا که باعث تفرقہ وجوہ معاش پانچ سات آدمی کا خرچ بھی میرے پر ایک بوجھ تھا اور یا اب وہ وقت آگیا کہ بحساب اوسط تین سو آدمی ہر روز مع عیال و اطفال اور ساتھ اس کے