حقیقةُ الوحی — Page 246
روحانی خزائن جلد ۲۲ ۲۴۶ حقيقة الوحى اُٹھا اور امتحان کے لئے چلنا شروع کیا تو ثابت ہوا کہ میں بالکل تندرست ہوں تب مجھے اپنے قادر خدا کی قدرت عظیم کو دیکھ کر رونا آیا کہ کیسا قادر ہمارا خدا ہے اور ہم کیسے خوش نصیب ہیں کہ اُس کی کلام قرآن شریف پر ایمان لائے اور اس کے رسول کی پیروی کی اور کیا بد نصیب وہ لوگ ہیں جو اس ذوالعجائب خدا پر ایمان نہیں لائے ۔ ۸۵ نشان ۔ ایک مرتبہ میں قولنج زحیری سے سخت بیمار ہوا اور سولہ دن پاخانہ کی راہ سے خون آتا رہا اور سخت درد تھا جو بیان سے باہر ہے انہیں دنوں میں شیخ رحیم بخش صاحب مرحوم مولوی ابوسعید محمد حسین صاحب کے والد ماجد بٹالہ سے میری عیادت کے لئے آئے اور میری نازک حالت انہوں نے دیکھی اور میں نے سنا کہ وہ بعض لوگوں کو کہہ رہے تھے کہ آج کل یہ مرض و با کی طرح پھیل رہی ہے۔ بٹالہ میں ابھی میں ایک جنازہ پڑھ کر آیا ہوں جو اسی مرض ۲۳۵) سے فوت ہوا ہے اور ایسا اتفاق ہوا کہ محمد بخش نام ایک حجام قادیان کا رہنے والا اُسی دن اسی مرض سے بیمار ہوا اور آٹھویں دن مر گیا اور جب سولہ دن میری مرض پر گذرے تو آثار نومیدی کے ظاہر ہو گئے اور میں نے دیکھا کہ بعض عزیز میرے دیوار کے پیچھے روتے تھے اور مسنون طور پر تین مرتبہ سورہ یس سنائی گئی۔ جب میری مرض اس نو بت پر پہنچ گئی تو خدا تعالی نے میرے دل پر القا کیا کہ اور علاج چھوڑو اور دریا کی ریت جس کے ساتھ پانی بھی ہو تسبیح اور درود کے ساتھ اپنے بدن پر ملو۔ تب بہت جلدی دریا سے ایسی ریت منگوائی گئی اور میں نے اس کلمہ کے ساتھ کہ سبحان الله و بحمده سبحان اللہ العظیم اور درود شریف کے ساتھ اُس ریت کو بدن پر ملنا شروع کیا۔ ہر ایک دفعہ جو جسم پر وہ ریت پہنچتی تھی تو گویا میرا بدن آگ میں سے نجات پاتا تھا صبح تک وہ تمام مرض دور ہوگئی اور صبح کے وقت الہام ہوا وان كنتم في ريب مما نزلنا على عبدنا فاتوا بشفاء من مثله ۸۶ نشان۔ ایک دفعہ مجھے دانت میں سخت درد ہوئی ایک دم قرار نہ تھا کسی شخص سے میں نے دریافت کیا کہ اس کا کوئی علاج بھی ہے۔ اس نے کہا کہ علاج دندان اخراج دندان۔ اور دانت نکالنے سے میرا دل ڈرا تب اُس وقت مجھے غنودگی آگئی اور میں زمین پر بیتابی کی حالت میں بیٹھا ہوا تھا اور چار پائی