حقیقةُ الوحی — Page 245
روحانی خزائن جلد ۲۲ ۲۴۵ حقيقة الوحى اس کے ہاتھ میں ہاتھ دیا ہے اسی طرح جس قدر میں نے اس رسالہ میں پیشگوئیاں لکھی ہیں ہزار ہا مرید میرے اُن کی سچائی کے گواہ ہیں۔ ایک جاہل کہے گا کہ مرید کی گواہی کا کیا اعتبار ہے میں کہتا ہوں کہ اس گواہی جیسی اور کوئی گواہی ہی نہیں کیونکہ یہ تعلق محض دین کے لئے ہوتا ہے اور انسان اُسی کا مرید بنتا ہے جس کو اپنی دانست میں تمام دنیا سے زیادہ پارسا طبع اور متقی اور راست گو خیال کرتا ہے پھر جب مرشد کا یہ حال ہو کہ صد ہا جھوٹی پیشگوئیاں اپنی طرف سے تراش کر مریدوں کے آگے ہاتھ جوڑتا ہے کہ میرے لئے جھوٹ بولو اور کسی طرح جھوٹ بول کر مجھے ولی بنا دو اُس کو کیونکر اُس کے مرید نیک آدمی کہہ سکتے ہیں اور کیونکر دل و جان سے اُس کی خدمت کر سکتے ہیں بلکہ اُس کو تو ایک شیطان کہیں گے اور اُس سے بیزار ہو جائیں گے اور میں تو ایسے مرید پر لعنت بھیجتا ہوں جو میری طرف (۲۳۳) جھوٹی کرامتیں منسوب کرے اور ایسا مرشد بھی لعنتی ہے جو جھوٹی کرامتیں بنا دے۔ ۸۴ - نشان - ۵/اگست ۱۹۰۶ء کو ایک دفعہ نصف حصہ اسفل بدن کا میرا بے حس ہو گیا اور ایک قدم چلنے کی طاقت نہ رہی اور چونکہ میں نے یونانی طبابت کی کتابیں سبقاً سبقاً پڑھی تھیں اس لئے مجھے خیال گذرا کہ یہ فالج کی علامات ہیں ساتھ ہی سخت درد تھی۔ دل میں گھبراہٹ تھی کروٹ بدلنا مشکل تھا۔ رات کو جب میں بہت تکلیف میں تھا تو مجھے شماتت اعداء کا خیال آیا مگر محض دین کے لئے نہ کسی اور امر کے لئے ۔ تب میں نے جناب الہی میں دعا کی کہ موت تو ایک امر ضروری ہے مگر تو جانتا ہے کہ ایسی موت اور بے وقت موت میں شماتت اعداء ہے تب مجھے تھوڑی سی غنودگی کے ساتھ الہام ہوا ان اللہ علی كلّ شيءٍ قدير۔ إن الله لا يخزى المؤمنین یعنی خدا ہر چیز پر قادر ہے اور خدا مومنوں کو رسوا نہیں کیا کرتا ۔ پس اُسی خدائے کریم کی مجھے قسم ہے جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اور جو اس وقت بھی دیکھ رہا ہے کہ میں اُس پر افتر ا کرتا ہوں یا سچ بولتا ہوں کہ اس الہام کے ساتھ ہی شاید آدھ گھنٹہ تک مجھے نیند آ گئی اور پھر یک دفعہ جب آنکھ کھلی تو میں نے دیکھا کہ مرض کا نام و نشان نہیں رہا۔ تمام لوگ سوئے ہوئے تھے اور میں